مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 245 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 245

245 فرموده۰ ۱۹۷ء د و مشعل راه جلد دوم میرے تعلقات تھے انہوں نے مجھے خاص طور پر کہا کہ دوسرے توجہ نہیں کرتے۔آپ کا لج کے طلباء اور دوسرے خدام سے کہیں کہ وہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لئے روٹیاں جمع کر کے دیں۔چنانچہ ایک دن ہمارے کالج کے پانچ دس طالب علم میرے پاس آ کر کہنے لگے کہ لاہور کے جس محلے میں ہم روٹیاں جمع کرنے کے لئے گئے تھے انہوں نے ہمیں کہا ہے کہ اگر دوبارہ تم یہاں آئے تو ہم تمہیں چھیڑ میں لگائیں گے۔میں نے ان سے کہا کل تم ضرور جاؤ اور اُن سے کہو کہ ہم چھیڑ میں کھانے آئیں ہیں۔اس شرط پر کہ جتنی چھیڑ میں مارو اس سے دگنی روٹیاں ہمیں دے دو کیونکہ ہمارے بھائی بھوکے ہیں ان کو روٹی پہنچنی چاہیئے چنانچہ وہ گئے تو چپیڑ میں تو انہوں نے نہیں کھائیں البتہ اس محلے سے روٹیاں لے کر آگئے۔یہ بات اثر کرتی ہے۔آپ ایک نمونہ قائم کریں۔خادم کا یہ حق الله ہے کہ وہ مسکرائے اور ہنسے اور میں نے کہا کہ یہ آپ ہی کا حق ہے اس وجہ سے کہ حضرت نبی اکرم ﷺ کو دو وعدے دیئے گئے تھے ایک یہ کہ آپ کے زمانہ میں اسلام اس وقت کی دنیا میں غالب آجائے گا اور دوسرا یہ کہ آپ کے محبوب ترین روحانی فرزند کے زمانہ میں ایک ہزار سالہ تنزل کے دور کے بعد پھر اسلام ساری دُنیا میں غالب آئے گا۔غلبہ اسلام کی پو پھٹ چکی ہے اور غلبہ اسلام کا دن طلوع ہونے والا ہے دنیا کی کوئی قوم اسلام سے باہر رہ کر عزت کی زندگی نہیں گزار سکتی۔اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے۔یہ پورا ہوگا۔پس جب خدا تعالیٰ نے غلبہ اسلام کا اتنا عظیم وعدہ دیا ہے تو رونے کا حق ہمیں کیسے مل گیا۔ہمیں تو ہنسنے کا حق ملا ہے۔اس عظیم وعدے اور اس حق کی بناء پر مسکراتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاؤ۔اگر کوئی چھیڑ لگاتا ہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔کوئی گالی دیتا ہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔کوئی ہماری راہ میں کانٹے بچھاتا ہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔نادان ہیں جاہل ہیں۔ان کے یہ افعال ہماری مسکراہٹوں کو نہیں چھین سکتے ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ ہم غلبہ اسلام کے وعدے بھول گئے اور کسی کا ایک چپیڑ مارنا یا گالی دینا یا کانٹے بچھانا یا درہ گیا۔ایسی باتوں سے متاثر ہونا ہمارا حق نہیں ہے۔ہم میں سے کسی کے نفس کا یہ حق نہیں ہے۔ہمارے ہر نفس کا یہ حق ہے کہ وہ بہترین اور اچھا خادم بنے اور یہ کشادہ راہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہورہی ہے لوگ مٹی ڈالتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش اسے دھو ڈالتی ہے۔ہمارا قدم بھی نہیں پھسلا اور نہ پھسلنا چاہیئے۔سوائے ان کے کہ جو منافق ہیں اور یہ ہر الہی سلسلے میں ہوتے ہیں۔ہزار میں سے ایک یا لا کھ میں سے دو۔ان کا تو کوئی ذکر نہیں۔لیکن خدا کے پیارے مخلص وفادار اور مخلص بندے جو ہیں۔دنیا کی کوئی گالی یا فتوے یا چھیڑ میں یا غصہ کا اظہار ان کے راستے میں کوئی روک نہیں بن سکتا۔جہاں سب سے زیادہ گالیاں ہمارے کانوں میں پڑ رہی ہوتی ہیں وہیں اللہ تعالیٰ کے پیار کا ہاتھ کہتا ہے آگے بڑھو۔بھول جاؤ اس کو یہ کیا کہتے ہیں۔کیونکہ بے اثر ہے ان کی ہر کوشش اور ناکام ہے ان کا ہر منصوبہ۔پھر ہمیں غم اور غصہ اور گھبراہٹ کس بات کی ! غرض آپ کا خادم بنے کا پہلا حق یا خادم بننے کے لئے پہلا گر یہ ہے کہ آپ کے چہرے پر ہمیشہ بشاشت پینی چاہیئے۔اگر کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلاء آئے تب بھی بشاشت آنی چاہیئے۔یہ ہے تو میرے گھر کا واقعہ