مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 180
دومشعل کل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 180 ہی محدود ظاہری اور صرف چھلکے کی زینت اور ایک عارضی اور فانی آرام اور سکون اور لذت کی خاطر وہ ان راہوں کو اختیار کرتے ہیں جن راہوں پر چل کر خدا تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں اور قابلیتوں کی صحیح نشو و نما نہیں ہوسکتی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا نہیں ملا کرتی اور بجائے اس کے کہ وہ اپنی حالت پر روئیں وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والوں پر استہزا کرتے ہیں ٹھٹھا کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ جن سے وہ ٹھٹھا کرتے ہیں یہ وہ جماعت ہے کہ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ دنیوی زینت اور دنیوی آراموں کے مقابلہ میں بغیر حساب ان کو ملے گا ان کا ان سے کوئی مقابلہ نہیں۔میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب دنیا دار ناشکرے کے خلاف فیصلہ صادر فرماتا ہے تو اس دنیا کی لذت دکھ میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اس دنیا کا سرور غم میں بدل جاتا ہے۔اس دنیا کی خوشحالی بد حالی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اور وہ فیصلہ الہی سلسلوں میں اس دنیا میں ضرور ہوتا ہے ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ یہ فیصلہ کس نسل میں ہوگا۔بعض دفعہ یہ فیصلہ پہلی نسل میں ہوتا ہے جیسا کہ قریش مکہ جو مومنوں کی جماعت کے مقابلہ میں آئے تھے وہ مومنوں کی آنکھوں کے سامنے اور ان کے ہاتھوں سے ذلیل وخوار ہوئے۔بے عزت ہوئے لیکن کبھی یہ فیصلہ کئی نسلیں گزرنے کے بعد ہوتا ہے لیکن اس سارے عرصہ میں پھر بھی بغیر حساب کے اللہ تعالیٰ سے فضل اور رحمتیں اور ان انعامات کے صحیح استعمال کے نتیجہ میں ان کے جو مرات ملتے ہیں جو پھل ملتے ہیں وہ بغیر حساب ملتے ہیں اور اسی دنیا میں ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایک مثال دی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک الہی سلسلہ قائم ہوتا ہے۔اس پر ایمان لانے والے ایک وقت تک ذلیل بھی کئے جاتے ہیں۔ان پر پھبتیاں بھی کسی جاتی ہیں۔استہزاء سے بھی کام لیا جاتا ہے۔ان کو دکھ بھی دیا جاتا ہے۔ان کو چپیڑ میں بھی لگائی جاتی ہیں۔ان کو جوتے بھی پڑتے ہیں۔ان کو قتل بھی کیا جاتا ہے لیکن وہ اپنا تعلق محبت جو انہوں نے اپنے رب سے باندھا تھا قطع نہیں کرتے۔دنیا کی کوئی تلوار ایسی نہیں کہ جو اس رشتہ الفت کو قطع کر سکے اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے حقیقی سکون کا اس وقت بھی انتظام کرتا ہے۔پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنا فیصلہ جاری کرتا ہے وہ ان کو غالب کرتا ہے اور باقی دنیا کو چوہڑے چماروں کی طرح ذلیل اور بے عزت کر دیتا ہے۔پھر اللہ تعالی کی قوتوں کا وہ صحیح استعمال کرتے ہیں ان کی صحیح نشو ونما کرتے ہیں اور ایک نہایت ہی حسین معاشرہ اس دنیا میں پیدا ہو جاتا ہے جس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو دکھ پہنچانے والا نہیں ہوتا بلکہ ہر شخص دوسرے کے دکھوں کا مداوا بنتا ہے اور دراصل یہ دنیوی دکھ بھی سوائے آسمانی ابتلاؤں اور امتحانوں کے باقی نہیں رہتے کیونکہ ہماری دنیا میں جو دکھ ہیں وہ بنیادی طور پر دو قسم کے ہیں۔ایک وہ دکھ ہیں جو انسان کے ہاتھ کے پیدا کردہ ہیں اور ایک دکھ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے حوادث کے رنگ میں آتے ہیں اور وہ امتحان کے طور پر ہوتے ہیں۔یہ امتحان تو ان کے ایمان کی پختگی کے لئے اور ان پر اپنے فضلوں کی بارش میں وسعت اور شدت پیدا کرنے کے لئے جاری رہتا ہے اور جاری رہے گا لیکن انسان کے ہاتھ سے جو یہ پاک اور مقدس لوگ دکھ اٹھایا کرتے تھے وہ صورت پھر قائم نہیں رہتی۔ہر انسان کی عزت کی جاتی ہے ہر ایک انسان کا احترام ہوتا ہے۔ہر انسان کی قدر کی