مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 181
181 فرموده ۱۹۶۹ء دو مشعل راه جلد دوم جاتی ہے۔ہر انسان کو اپنے جیسا اشرف الخلوقات کا ایک فرد سمجھا جاتا ہے۔ہر انسان دوسرے انسان سے تعاون کرتے ہوئے اپنے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔فیصلے کا وہ دن بھی آتا ہے۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ امِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَّأْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَاذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُو يَصْنَعُوْنَ۔(النحل : ۱۱۳) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نقشہ کھینچا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی جماعت کے لئے آخری فیصلہ ہو جاتا ہے اور اس دنیا میں بھی وہ غالب ہو جاتے ہیں اور امن اور اطمینان اور خوشی اور خوشحالی اور ہزار قسم کے سرور والی زندگی گزارنے لگ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ان بے شمار نعمتوں کے نتیجہ میں وہ اور بھی اس کی طرف جھکتے ہیں۔وہ اپنے نفس سے اور بھی خالی ہو جاتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں اور بھی زیادہ فانی ہو جاتے ہیں۔وہ ہر غیر اللہ سے اور بھی زیادہ دور ہو جاتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور شکر کا حق ادا کرتے ہیں تب ایک لمبازمانہ ایسا آتا ہے کہ اس دنیا کا رزق بھی بڑی کشائش کے ساتھ ان کو ملتا ہے اور ان کی زندگی امن اور اطمینان کی زندگی ہوتی ہے۔پھر کبھی دو نسلیں کبھی چار نسلیں کبھی پانچ نسلیں اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کی پرورش یافتہ خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھکتی رہتی اور اس کے مزید فضلوں کو حاصل کرتی رہتی ہیں۔پھر ایک نسل پیدا ہوتی ہے اس کے دل میں شکر کی بجائے ناشکری کے جذبات ہوتے ہیں اور وہ یہ مجھے لگتی ہے کہ ہمارے باپ دادا اور ہم ایسی خوبیوں کے مالک ہیں کہ اللہ تعالیٰ بھی اس بات پر مجبور ہوا کہ وہ ہماری عزت کرے۔اللہ تعالیٰ بھی مجبور ہوا کہ وہ ہمیں مال دے اور ہمیں اقتدار دے وہ ہمیں عزت دے اور وجاہت دے عاجزانہ راہوں کو چھوڑ کر متکبرانہ اور مغرورانہ راہوں کو اختیار کرتے ہیں تب جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھتا ہے کہ ان کی ناشکری اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور وہ جو سمجھ رکھتے تھے وہ جو روحانیت کے نور میں زندگی گزار رہے تھے ان کی آواز کو یہ سن نہیں رہے تب ایک دوسرا فیصلہ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور وہ یہ کہ فأذاقها الله لباس الجوع ایسی بستی کو ایسی قوم کو ایسی جماعت کو اللہ تعالیٰ سکون اور آرام اور خوشی اور اطمینان کے لباس کی بجائے بھوک اور بے اطمینانی اور خوف کی چادر پہناتا ہے اور ذلت کا مزہ چکھاتا ہے تب ان کو کہتا ہے دیکھو تمہارے باپ دادا نے میرے فضلوں کو پایا اور انہوں نے اپنی قوتوں اور قابلیتوں کو اس رنگ میں استعمال کیا کہ میرے مادی اسباب دنیا کے فائدہ کے لئے اور ان کی روحانی ارتقاء کے لئے کام آئے کتنا لمبا عرصہ میں نے ان سے پیار کا سلوک کیا۔کتنی بے شمار نعمتیں میں نے ان کو دیں ایک لمحہ بھی وہ میری محبت کی نگاہ سے محروم نہیں ہوئے کیونکہ مجھ پر نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ۔اور ایک ذرہ بھی ان کے جسم کا اور ایک پہلو بھی ان کی روح کا مجھ سے دور نہیں ہوا۔ان کا ہر زاویہ جو تھا ہر رنگ جو تھا وہ میری طرف اور میرے رنگ سے رنگین تھا۔ایک کے بعد دوسری نسل نے میری محبت کی شان اور میری محبت کے جلوے اس طرح دیکھے کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے لیکن تم ناشکرے پیدا ہوئے کہ تم ان تمام نعمتوں کو بھول