مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 170 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 170

د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 170 (اکثر لوگ دوسرے کو) کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں تجھے ہلاک کر دوں گا۔لیکن اگر اسے اپنی حقیقت کا علم ہو تو وہ کہے گا میں کون ہوتا ہوں کسی کو ضرر پہنچانے والا۔مجھے یہ کہاں طاقت۔پس کسی کا یہ کہنا کہ میں یوں کر دوں گا وؤں کر دوں گا اس قسم کے فقرے اس کی زبان پر آہی نہیں سکتے کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ ساری طاقتوں کا منبع تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔میں تو ہوں ہی کچھ نہیں۔جب ہے ہی کچھ نہیں تو کر دونگا“ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایسے شخص کی زبان سے یہ نہیں نکل سکتا کہ میں ایسا اور میں یوں اور ووں ہوں۔کیونکہ اس کو تو پتہ ہوتا ہے کہ میں تو ہوں بھی کچھ نہیں۔میں میں ہی نہ رہی تو یوں کر دینے یاووں کر دینے کا سوال ہی نہ رہا۔پس اس میں انتہائی عاجزی ہوتی ہے۔اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ عاجزی کی سواری پر سوار ہو کر عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں کی طرف حرکت کر رہا ہوتا ہے اور اس صورت میں پھر میں باقی نہیں رہتی۔حسن اخلاق جو ہے اس میں بھی نفس کی صحیح پہچان اس کو یہ بتاتی ہے کہ نفس مطمئنہ کا حصول اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن نہیں ہے اور یہی فرق ہے دنیوی اخلاق اور روحانی اخلاق میں جو بظاہر آپس میں بڑے مشابہ ہیں۔آج ہی ایک غیر احمدی دوست آئے ہوئے تھے۔انہوں نے اس قسم کے سوال کئے کہ اسلام سے باہر (اصل تو ان کا سوال حدئی للمتقین صحیح معنی نہ جاننے کی وجہ سے تھا) انسان متقی بن سکتا ہے تو پھر اسلام لانے کی کیا ضرورت ہے۔اسلام سے باہر اگر کوئی متقی بن سکتا ہے تو پھر واقعی اسلام لانے کی ضرورت نہیں۔میں نے ان کو بتایا کہ اسلام سے باہر کوئی منتقی نہیں بن سکتا۔اسلام سے باہر کوئی با اخلاق بھی نہیں بن سکتا۔کیونکہ جو اخلاق ہیں وہ ہماری طبعی حالتوں کی ایک ہدایت یافتہ شکل ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جن راہوں پر ان طبعی حالتوں کو چلایا ہے اس ہدایت یافتہ شکل کو ہم روحانی طور پر اخلاق کہتے ہیں۔لیکن جو د نیوی اخلاق ہیں۔وہ اخلاق نہیں ان میں کوئی روحانیت نہیں۔مثلاً یورپین اقوام اب تو وہ اخلاقی لحاظ سے بہت گر گئی ہیں۔ایک وقت ایسا تھا کہ ان کے اندر دیانت داری بہت تھی خصوصاً معاملات کی دیانت، تجارت کی دیانت وہ جو بھی Sample ( نمونہ) بھیجتے تھے مال بالکل اس کے مطابق آتا تھا اور اگر کوئی یہاں سے ان کو مال بھجواتا تھا تو اس کو پتہ ہوتا تھا کہ پیسے نہیں مارے جائیں گے۔دیانت دار قوم ہے اب یہ بات بھی حسن اخلاق کے اندر آتی ہے لیکن وہ خلق کا اظہار اس لئے نہیں کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے بلکہ اس لئے ہوتا تھا کہ ان کی عقل اور تجربے نے ان کو یہ بتایا تھا کہ تم دیانت داری کی راہوں کو اختیار کرو گے تو تمہیں دنیوی لحاظ سے بڑا فائدہ ہوگا۔تمہاری تجارت چمک جائے گی۔تم بڑے امیر ہو جاؤ گے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جو اور بہت سے اچھے اخلاق ہیں وہ ان میں نہیں پائے جاتے۔بد معاشی اور شراب نوشی اور اس طرح کی ہزاروں بد اخلاقیاں اور بے ایمانیاں ان کے اندر پائی جاتی ہیں مگر جو روحانی اخلاق ہیں وہ کامل ہونگے۔کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے جلووں کے نتیجہ میں پیدا ہونگے۔پس ہدایت یافتہ اخلاق رکھنے والا کوئی شخص اسلام سے باہر نہیں ہوسکتا۔پھر انہوں نے یہ سوال کیا کہ اس ھدی للمتقین کے کیا معنی ہونگے۔میں نے ان کو بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کی تعلیم متقی بھی بناتی ہے