مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 169
169 فرموده ۱۹۶۹ء دو مشعل راه جلد د دوم ذات میں ہی کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اس کی صفت میں بھی کسی کو شریک نہ بنائیں۔یعنی اللہ تعالیٰ شافی ہے کسی اور کو اس کی شفاء کی صفت میں شریک نہ بنائیں۔اس طرح ہم اس کی ربوبیت کی صفت میں بھی کسی کو شریک نہ بنا ئیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی صفات ہیں ان میں کسی اور کوشریک نہ بنا ئیں تب تو حید قائم ہو سکتی ہے۔اور اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہے اور کسی کی اطاعت نہیں کرنی چاہئے۔اگر ہمیں صفات باری تعالیٰ کی صحیح معرفت معلوم ہو جائے تو پھر ہم کسی اور کی اطاعت نہیں کر سکتے کیونکہ کسی غیر کے اندر وہ خوبیاں دیکھتے ہی نہیں۔تمام خوبیاں تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات میں دیکھتے ہیں۔اس کو تمام خوبیوں کا منبع اور سر چشمہ سمجھتے ہیں۔پس جب ہم کسی اور کے اندر کوئی خوبی پاتے ہی نہیں تو پھر کسی غیر کی اطاعت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حق العباد میں جو علمی پہلو ہے یعنی ہر انسان کو اپنے جیسا نیچ سمجھنا۔اگر ہم کسی کو یہی سمجھنا شروع کر دیں تو ظاہر ہے ہم اس کو اپنے معبود تو نہیں بنا سکتے پس تو حید خالص اس وقت قائم ہوتی ہے جب ہم انسان کا حق اس رنگ میں ادا کریں کہ اپنے جیسا بیج اور لاشی محض دوسرے کو بھی سمجھیں اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ چونکہ تو حید ہی تو حید ہے اللہ ہی اللہ ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف لے جاتے ہیں ہر ایک کو دوسرے کا ممد و معاون بننا چاہئے یعنی ہمدردی اور خیر خواہی کا جذ بہ اس نیت اور اس اخلاص کے ساتھ ہو کہ ہم نے ان کے ساتھ محبت اور پیار اور محبت کا تعلق اس لئے قائم کرنا ہے کہ ہم ان کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کریں تا کہ ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو کہ ہماری زندگی کا مقصد اور ہماری پیدائش کی غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے قرب کا ایک تعلق پیدا کیا جائے۔جب خدمت کا جذبہ اس نسیت کے ساتھ ہو گا تو اس صورت میں توحید اپنے آپ پیدا ہوگی کیونکہ ہم یہ کام تو حید کے لئے کر رہے ہو نگے۔اس صورت میں بھی آدمی جب نفس کی آفات کو دیکھے گا تو غیر اللہ سے اپنے آپ نظر ہٹ جائے گی۔متکبر سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور کوئی نہیں اور قادر سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور کوئی نہیں۔جب کسی فرد واحد ہی یا انسانوں کے باہر کسی مخلوق میں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کے مشابہ صفت کا کوئی شائبہ تک نہیں تو اس کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا جو ہماری ہلاکت کا باعث بنے۔حقیقی اخلاق صرف اسلام کی روشنی میں پیدا ہو سکتے ہیں پس تو حید خالص کے نتیجے میں آفات نفس کے ایسے بہت سے راستے جو اپنے رب سے دور لے جانے والے اور شیطان کے قریب کرنے والے ہوتے ہیں وہ اپنے آپ مسدود ہو جاتے ہیں۔دوسری طرف وہ یہ دیکھتا ہے کہ میرا رب کتنا رحیم و کریم ہے کہ میری راہوں کو اس نے آسان کر دیا اور مجھے جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی قابلیتیں عطا کیں تا کہ میں اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چل کر اس کے فضل اور اس کی رحمت سے اس کی رضا کی جنتوں کو حاصل کرلوں۔پس یہ تو علم ہے کہ میرے اندر خدا نے یہ قابلیت پیدا کی ہے اور حق نفس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اپنے علم کے مطابق عمل کرے یعنی جب اپنے آپ کو لاشی محض سمجھے تو پھر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ جوش میں آکر