مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 152
دومشعل تل راه جلد دوم ہے۔فرموده ۱۹۶۹ء 152 پس جولوگ ایک دفعہ ربوہ آ جاتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ جاتے ہیں وہ اگر چہ اسی وقت احمدی ہو جاتے ہیں البتہ جو لوگ احمدی نہیں ہوتے وہ پہلے جیسے مخالف بھی نہیں رہتے وہ اپنی ڈار کو چھوڑ دیتے ہیں۔جس طرح شکاری مرغابیوں کی ڈار پر فائر کرے اور کسی مرغابی کو ہلکا سا چھتر الگ جائے اس سے اگر چہ وہ نہ مرتی ہے اور نہ گرتی ہے لیکن پھر وہ اپنی ڈار کے ساتھ نہیں اڑ سکتی۔پھر وہ اپنی ڈار کو چھوڑ دیتی ہے اور ڈار سے علیحدہ ہوکر زندگی گزار نے لگ جاتی ہے کیونکہ اس کے اندر اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ ڈار کے ساتھ پرواز کر سکے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے جانوروں کو اس طور کا بنایا ہے کہ وہ ذرا سا زخم آجانے کے بعد اپنی ڈار کو چھوڑ دیتے ہیں مثلاً یہ ہرن ہے اسے ذرا سا زخم آجائے تو یہ اپنی ڈار کو چھوڑ دیتا ہے۔وہ پہلے کی طرح دوڑ ہی نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ نے جانوروں میں اس سمجھ کا مادہ رکھا ہے کہ جب وہ زخمی ہو جائیں تو اپنی ڈار سے الگ ہو جائیں۔بالکل اسی طرح ان لوگوں کا بھی حال ہوتا ہے جو ایک دفعہ ربوہ آ جاتے ہیں یا کسی احمدی سے سنجیدگی سے باتیں سن لیتے ہیں ایسا آدمی دلائل سے گھائل ہو جاتا ہے۔چنانچہ غلط فہمی دور ہوگئی۔مثبت قسم کی دلچسپی پیدا ہوگئی۔باتیں سنی شروع کیں مسئلے سمجھ آنے لگے اس حد تک وہ احمدی ہو گیا۔پہلے مثلاً آنکھیں بند کر کے ورثہ میں حیات مسیح والا عقیدہ لیا ہوا تھا لیکن پھر جب دلیلیں سامنے آئیں تو وفات مسیح کا قائل ہو گیا۔پس اس حد تک وہ احمدی ہو چکا۔عقائد کے لحاظ سے ہم نے اس کا ایک عقیدہ بدل دیا اور یہ بات اس کے لئے اچھی ہے۔لیکن اس مثال کو ایک اور رنگ میں بھی بیان کر سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ پرند اور چرندکو اللہ تعالیٰ نے یہ سمجھ عطا کی ہے کہ جب تم اپنی ڈار میں آگے بڑھنے کے قابل نہ رہو تو اپنی ڈار کو چھوڑ دو۔ڈار کو کیوں خراب کرتے ہو؟ بعض پرندے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی زخمی پرندہ ڈارکو نہ چھوڑے تو ساری ڈار اپنی رفتار کوکم کر لیتی ہے اور اسے اپنے ساتھ لئے جاتی ہے۔ایک دفعہ ہمنگ کے شکار کو گئے۔Migratory Bird ( یعنی ایک ملک سے دوسرے ملک کو پرواز کر جانے والا جانور ہے۔گرمیوں میں یہ جاچکا تھا۔یہاں سردیاں گزارتا ہے لیکن بعض دفعہ کھانے کے لالچ میں بعض دانے ٹھہر جاتے ہیں اور پھر اتنی گرمی ہو جاتی ہے کہ وہ کئی ہزار میل کا سفر گرمی کی وجہ سے نہیں کر سکتے اور انہی میں سے اکثر شکار کی نذر ہو جاتے ہیں۔الا ماشاء اللہ چنانچہ تین چانگ ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ہم نے فائر کیا ان میں سے ایک گر گیا اور دوسرا تھوڑ اسا زخمی ہو گیا اور قریباً پانچ سو گز کے فاصلے پر جا کر بیٹھ گیا دوسرے دو تین لگ بھی وہاں سے اُڑے اور پھر بجائے کئی میل دور چلے جانے کے اُس زخمی لگ کے پاس آکر بیٹھ گئے پس یہ جتنے پرند اور چرند ہیں ان میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنی ڈار کے ساتھ نہیں چل سکتے تو انہیں اپنی ڈار کو بہر حال چھوڑ دینا چاہیے ورنہ ساری ڈار تکلیف میں پڑ جائے گی۔لیکن منافق کو یہ احساس نہیں ہوتا۔وہ بھی روحانی طور پر زخم خوردہ ہوتا ہے نا! مگر بیچ میں گھسا رہتا ہے اس کی وجہ سے جماعت کو بہر حال چاہے وہ فتنہ بڑا نہ ہو کچھ نہ کچھ نقصان اٹھانا پڑتا ہے Slow down ( یعنی سست رفتار ) ہونا پڑتا