مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 151
151 فرموده ۱۹۶۹ء دد د و مشعل راه جلد دوم میرے مبلغ نے جا کر تبلیغ نہیں کی وہیں بعض ایسی سعید روحیں ہوتی ہیں جن کے دل میں یہ شوق پیدا ہوتا ہے کہ وہ احمدیت کے متعلق پڑھیں۔پس یہ جھوٹ بولتے ہیں اور ہمارے حق میں اچھا نتیجہ نکل آتا ہے۔پچھلے فسادات جو اس مارشل لاء سے پہلے رونما ہوئے تھے اس میں ایک دوست نے بتایا کہ اس کا Boss احمدی ہے لیکن وہ چھپائے ہوئے ہیں۔وہ ظاہر نہیں کرتے وہ غلط بیانی کر گئے۔اس کے بعد مجھے یہ اطلاعات آنے لگیں کہ ہمارا فلاں افسر دوست ہے اور ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے کتابیں دو، پڑھنا چاہتا ہوں۔میں نے سوچا شاید میرا دوست اندر سے احمدی ہو۔مجھے پتہ کرنا چاہیے شاید مجھے کام آجائے۔غلط بیانی تو اُس نے کی جو کسی اور مقصد کے لئے کی تھی لیکن اس نے Pay back کیا ناں ! پس اللہ تعالیٰ ہمیں گھاٹے میں نہیں رکھتا۔ہمیں اس کا بدلیل جاتا ہے یعنی اس کی قیمت مل جاتی ہے۔اس لحاظ سے بھی ہمیں غصہ کیوں آئے غصہ تو ویسے بھی نہیں آنا چاہیے مثلاً یہ جو مالی ہے یہ باغ ہی سے بہت ساری بوٹیوں کو اکھیڑ رہا ہوتا ہے۔اس کے اوپر غصہ تو نہیں آتا بلکہ ہم اُسے شاباش دیتے ہیں۔حالانکہ یہ بوٹیاں اس باغ ہی میں اُگی ہوتی ہیں۔اس کی Soil ( یعنی مٹی) سے غذا حاصل کی اور بڑھیں۔پتے نکلے ہوئے ہوتے ہیں بعض بڑے خوبصورت لگتے ہیں۔بہر حال وہ کاٹتا چلا جاتا ہے اور جس پودے پر ظلم کرنا ہو یعنی کا تنا ہو اپنے فائدہ کے لئے ظلم تو مجھے نہیں کہنا چاہیے لیکن بہر حال اُسے موت کا منہ دکھانا ہو تو ہم ایسے پودے کو Reed کا نام دے دیتے ہیں یا Parasite ( پیرا سائٹ ) کہہ دیتے ہیں کہ جو پودے لگانا چاہتے ہیں یہ ان کی غذا کھا رہا ہے اس لئے اسے کاٹ دیتے ہیں۔پس یہ لوگ بہت سی غلط فہمیاں نکال دیتے ہیں غلط فہمیاں پیدا کر کے۔ایسے سامان پیدا کر دیئے گئے ہیں کہ وہ غلط فہمیاں دور ہو جائیں۔مثلا ربوہ کے متعلق کوئی شخص اپنے دوست سے یہ کہے کہ وہاں جنت ہے دوزخ ہے حوریں ہیں اور یہ ہے اور وہ ہے تو اسے یقیناً بڑا غصہ آئے گا کہ کیا نالائق جماعت ہے جس نے یہ تماشا بنایا ہوا ہے اور جو بھی یہ سنتا ہے وہ ہمیں بہر حال متقی تو نہیں سمجھے گا۔بے شک وہ غلط نہی میں مبتلا ہوگا مگر ا سے بڑا غصہ آرہا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے آ تجھے دکھا ئیں ربوہ۔پس کبھی اسے اتفاقاً سفارش کروانے کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور ربوہ سفارش کرانے کے لئے آ جاتا ہے اور ربوہ میں آکر بڑے ڈر ڈر کر یہ فرضی قصے نہیں سنار ہا بلکہ واقعی ایسے لوگ ربوہ آتے رہتے ہیں)۔کسی سے پوچھتا ہے یا رسنا ہے ربوہ میں جنت اور دوزخ ہے۔میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں۔اس لئے چلو مجھے دکھاؤ۔ربوہ والے بڑے Trained ہو گئے ہیں اسے یہ نہیں کہتے کہ کوئی نہیں بلکہ اسے کہتے ہیں ہاں چلو تمہیں دکھا ئیں چنانچہ اسے بہشتی مقبرہ میں جاتے ہیں۔وہ وہاں جا کر دیکھتا ہے کہ قبریں ہیں البتہ پر سکون فضا نظر آتی ہے پھر تو اس کے ذہن پر بڑا شاق گذرتا ہے کہ جس سے اس نے جنت اور دوزخ اور نہ جانے کیا کیا باتیں سنیں تھیں اور جسے سچا سمجھتے ہوئے اور اپنا ہمدرد سمجھتے ہوئے اس کی باتوں کو مان لیا تھا مگر جب یہاں آ کر دیکھا تو حقیقت ہی اور تھی چنانچہ اس کا خیال بدل جاتا ہے اور جس سے اس نے غلط باتیں سنیں اُسے جھوٹا اور غیر ہمدرد سمجھنے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اسے غلط راستے پر لے جارہا