مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 139 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 139

139 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم Briefing ( بریفنگ) کی کہ جب اس نے مجھے فون کیا تو جس رنگ میں وہ مجھ سے باتیں کر رہا تھا میں نے سمجھا کہ ان کے دفتر کا کوئی منشی ہے اور وہ باتیں اس رنگ میں کر رہا تھا کہ میں مجبور ہوں۔معذرت خواہ ہوں۔میں یہاں آ نہیں سکتا جن صاحب نے وہ بات کرنی ہے اگر انہیں تکلیف نہ ہوسہولت سے یہاں (ائیلپور ) پہنچ سکیں تو وہ یہاں آ جائیں اور پھر معذرت کرنی شروع کر دی۔حالانکہ ربوہ سے لائیلپور کا فاصلہ صرف ۲۸ میل ہے۔مجھے یہ بعد میں پتہ لگا کہ یہ ان کا بیٹا ہے۔پس ظفر الاحسن صاحب بڑا خیال رکھنے والے دوست تھے۔ایک دو اور آدمی بھی اسی طرح دوستی نباہنے والے دیکھے ہیں۔ورنہ دنیا کو تو پتہ ہی نہیں کہ خدا نے کتنی اچھی چیز انسان کو دی تھی۔اس سے انسانی معاشرہ بڑا اچھا اور خوشگوار ہو جاتا ہے۔کیونکہ اصل میں تو ہمدردی اور غم خواری اور دوسرے حقوق العباد کی ادائیگی بہترین تعلقات کی ضامن ہے اور بہترین تعلقات کی ابتداء دوستانہ طریق پر ہونی چاہیے۔جب انسان اس طرح سے تعلقات پیدا کرنے لگ جاتا ہے تو پھر وہ حقوق العباد ادا کرنا شروع کرتا ہے۔پہلا حق ہے ہی دوستی کا۔اور میں نے بتایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر بڑا زور دیا ہے۔پس بنگالی طالب علموں سے اس رنگ کے دوستانہ تعلقات قائم کریں کہ جو ایک احمدی کے شایان شان ہوں ان سے کوئی غرض نہ ہو۔جس طرح قرآن کریم نے ضرورت مند کے حقوق کی ادائیگی کے بعد ہمیں یہ تعلیم دی اور ہماری زبان سے یہ کہلوایا کہ: لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَّلَا شُكُورًا (الدهر : ١٠) کہ نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ ہی اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ تم ہمارے شکر گزار رہو گے۔اللہ تعالیٰ کا حکم تھا حقوق ادا کر دیئے۔تم پر کوئی احسان نہیں کیا۔دوست یعنی یک جان دو قالب پس دوست پر دراصل احسان کوئی نہیں ہوتا۔دوستی کے دائرہ کے اندر تو وہ پھر ایک خاندان کے افراد بن گئے۔بھائی بھائی بن گئے۔یا دوستی کی وجہ۔ان کا ایک ہی وجود بن گیا۔دوستی کا دائرہ انسان کو ایک ہی وجود میں باندھ دیتا ہے۔اس میں حقوق کی کوئی ادائیگی یا احسان کا کوئی اظہار باقی نہیں رہتا۔جس طرح اپنا کام ہوتا ہے اس طرح دوست کا کام سمجھا جاتا ہے۔دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ہر انسان اپنا کام کرتا ہے اور اپنے لئے بڑے گندے کام بھی کرتا ہے مثلا غسل خانے جاتا ہے۔وہ طہارت کرتا ہے۔پس یہ کوئی پاک صاف کام تو نہیں پاک صاف ہونے کے لئے یہ کام کیا جاتا ہے۔لیکن خود اپنی ذات میں یہ کام تو گندہ ہی ہے نا؟ پس انسان جس طرح اپنے لئے اس قسم کے بھی کام کرتا ہے اور اپنے اوپر کوئی احسان نہیں جتاتا اور یہ نہیں کرتا کہ رات کو سوچنا شروع کر دے اور اپنا نام لے کر کہے کہ میں نے تم پر بڑا احسان کیا۔دیکھو میں نے تمہارا گند صاف کیا۔یہ بات کسی کے