مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 135
135 فرموده ۱۹۶۹ء دومشعل راه جلد دوم سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے کراچی میں مورخہ 4 ستمبر ۱۹۲۹ ءساڑھے گیارہ بجے دن اپنی قیام گاہ پر ممبران احمدیہ انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن سے قریباً دو گھنٹے خطاب فرمایا تھا جو بالآ خر حضور کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔اس کا مکمل متن درج ذیل ہے۔یہ خطاب غیر مطبوعہ ہے۔حضور نے ممبران سے کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم بنگالی طلبہ کے متعلق بعض سوالات پوچھے اور پھر ممبران ایسوسی ایشن کو یہ نصیحت فرمائی کہ وطن عزیز کے ہر حصہ سے آنے والے طلبہ خصوصا مشرقی حصہ کے طلبہ جو کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں ان سے ہمدردانہ میل جول رکھا جائے۔ان سے باہمی اخوت اور یگانگت کے تعلقات پیدا کئے جائیں اور ہمیشہ حسن سلوک اور حسن اخلاق روا رکھا جائے تا کہ مغربی پاکستان کے متعلق جو ان کے دلوں میں شکوے پائے جاتے ہیں وہ خود بخود دور ہو جائیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا: - مثلاً یہاں جو پنجابی آئے گا۔ایسٹ اور ویسٹ کا سوال نہیں کئی طلبہ پنجاب کے پڑھنے کے لئے آجاتے ہیں۔ایسے طلبہ کے لئے بھی کراچی اپنی جگہ نہیں ہوتی بہر حال غیر ماحول ہو گا۔نہ وہ اس شہر سے واقف ہونگے نہ یہاں کے لوگوں کی عادات سے واقف۔ہر شہر کی اپنی ایک انفرادیت ہوتی ہے۔جس طرح ہر شخص کی ایک انفرادیت ہے اس طرح ہر شہر کا بھی ایک کریکٹر ہوتا ہے اور یہاں مثلاً جو محتاط موٹر چلانے والا ہوگا وہ Accident ( حادثہ ) کر دے گا۔پیچھے سے آکر کوئی ٹکر مار جائے گا۔دوستانہ تعلق پیدا کرنے کی ضرورت پس جو طالب علم پنجاب یا ایسٹ پاکستان سے آیا ہوا ہے اس کے لیے یہ ملک تو غیر نہیں لیکن جگہ تو بہر حال غیر ہے۔اس کو اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کوئی مقامی دوست اس سے دوستی پیدا کرے تا کہ اسے ذہنی سکون حاصل ہو۔یہی حال بنگالی طلبہ کا ہے۔وہ دوستانہ تعلق کو خوش آمدید کہیں گے۔پس ہمارے لئے یہ بات بڑی ضروری ہے کہ ہم عام دنیا کے دوستانہ تعلقات قائم کریں ایک دوستی کے تعلقات میں وفا ہونی چاہیے جس شخص سے دوستی کی ہے اس کو پھر آپ کی زبان یا کسی اور حرکت سے جذباتی یا جسمانی یا کسی اور قسم کی کوئی بھی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ اس نے انسان میں باہمی تعلقات پیدا کرنے کی بڑی اہلیت رکھی ہے ورنہ تو انسان کا حال بھی گدھے اور کتے سے مختلف نہ ہوتا۔جدھر کو منہ اُٹھا ادھر ہی چل پڑا۔نہ بچوں سے پیار نہ اپنے دوستوں سے تعلق کا کوئی سوال۔