مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 126
دومشعل حل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۸ء 126 آپ کے صحابہ نے خدا کی راہ میں بشاشت قلبی کے ساتھ قبول فرمایا اور یہ کہ ان مصائب اور مظالم کے وقت صلى الله تہ اپنے صحابہ کو صبر کی تلقین فرماتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدائی وعدے پورے ہوئے چنانچہ اسلام الب آگیا اور معاندین کے منصوبے خاک میں مل گئے۔مومنوں پر ابتلاء کیوں آتے ہیں اپنا روح پرور خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ جب انسان اپنے رب سے دور ہو جاتا ہے اور اس کی بدبختی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو خدا تعالیٰ اپنے رسولوں کو بھیجتا ہے۔اس وقت دنیا کی سب طاقتیں ان کے خلاف صف آراء ہو جاتی ہیں۔لیکن رسول کی حسین اور سریلی آواز دیتی نہیں بلکہ ساری دنیا میں پھیلنی شروع ہو جاتی ہے۔تب مخالفین کا جوش بھی بڑھ جاتا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ مومنوں کو ابتلاء میں ڈالتا ہے۔لیکن انہیں ہلاک کرنے کیلئے نہیں بلکہ دنیا پر یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ انہیں میرے ساتھ پختہ تعلق حاصل ہے۔یہ ان ابتلاؤں میں مجھے چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔نیز یہ کہ میرے انعام وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جو میری خاطر دکھ قبول کرتے ہیں۔اس کے بعد مومنوں کیلئے وعدہ پورا ہونے کا وقت آتا ہے تو ان کے چہرے وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ صَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ کے مصداق ہوتے ہیں۔یعنی ان کے چہرے اطمینان کامرانی اور اللہ کی عظمت کے جلووں سے چمکنے والے ہوتے ہیں جن پر مسکراہٹ کھیل رہی ہوتی ہے اور وہ رحمت الہی کے سایہ میں خوش اور شاد ہوتے ہیں۔صبر کی تلقین صلى الله علوم اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ دنیا اس وقت بھی اسلام پر بڑی طاقت سے حملہ آور ہے۔آنحضرت علی کے زمانہ میں تلخیاں اور رنگ کی تھیں۔اب اور رنگ کی ہیں۔اب دنیا دجل کے ہتھیاروں کے ساتھ اسلام پر حملہ آور ہے۔ہزاروں میل دور بیٹھے ایذاء پہنچانے والے آنحضرت علی پر ایسے ایسے الزام لگاتے ہیں جن سے ہمارے دل چھلنی ہو جاتے ہیں اور آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں۔لیکن ہمیں گالی کے مقابل گالی کا حکم نہیں۔تمسخر کے مقابل تمسخر کا حکم نہیں۔بلکہ ہر ایذاء کے مقابل صبر کی تعلیم ہے۔گالیاں سن کر دعائیں دینے کا حکم ہے اور دکھ پہنچانے والوں کو آرام دینے کی تعلیم ہے۔حضور نے خدام سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم اس مقام پر قائم رہوتا خدا تعالیٰ اپنی بشارتوں کے وعدے پورے کرے۔فرمایا کہ میں تو دیکھ رہا ہوں کہ وہ وقت بڑا قریب ہے جب اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے گا جب ہر دل میں نبی اکرم ﷺ کی محبت قائم ہو جائے گی۔جب تمام دہریہ اور بت پرست اور بدھ مذہب اپنی بدیوں اور بت پرستیوں اور شرک کو چھوڑ کر خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے لگیں گے۔فرمایا کہ کامیابی بہر حال اسلام کو ہونی ہے۔غلبہ بہر حال اسلام کا ہے سارے معاند ناکام رہیں گے اور یہ غلبہ خدائی وعدہ کے مطابق جماعت احمدیہ کے ذریعہ ہوگا۔پھر وہ ہمارے بھائی جو ہم سے ناراض ہیں ہم سے گلے مل صلى الله