مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 93 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 93

93 فرموده ۱۹۶۸ء دو مشعل راه جلد دوم سے وہ پوری کوشش کرتا اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ڈھالتا ہے۔اس کے دل میں بڑا خوف پیدا ہوتا ہے کہ اس محدود زندگی میں خواہ کتنے ہی اعمال کیوں نہ کر لیں اس کے نتیجہ پر ہم ابدی جنتوں کے وارث نہیں بن سکتے۔جب وہ دعا کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔اور اس کے حضور یہ فریاد کرتا ہے۔کہ اے میرے رب! یہ زندگی تو نے محدود بنائی تیر افضل تھا کہ ہم نے تجھے پہچانا تیر افضل تھا کہ ہم نے تیرے محمد مال اللہ کو پہچانا تیر افضل تھا کہ ہم نے حقیقت کو پایا کہ قرآن کریم کے سب احکام پر عمل کرنا چاہئے۔لیکن اگر ہم نے کوتاہی کی تو ہو ہم بشر ہیں۔بہت سی کوتاہیاں بھی ہوئی ہوگی۔لیکن اگر ہم نے کوتاہی نہ کی ہو۔تب بھی اس محدود زندگی کا اگر اتنا ہی بدلہ ہمیں ملنا ہے تو ایک محدود جزاء ہمیں ملے گی ابدی جنتوں کے ہم وارث نہیں ہو نگے۔اس لئے ہم پر فضل کر اور ایسے سامان پیدا کر دے کہ عمل خواہ محدود ہی کیوں نہ ہوں اس کے بدلے میں ہمیں تیری رضاء جو ملے اور تیری رضاء کی جنتیں جو حاصل ہوں وہ غیر محدودزمانہ پر متد ہوں اور پھیلی ہوئی ہوں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی اس کمزور اور ان حالات کی وجہ سے کہ اس زندگی میں اس نے بڑے محدود زمانہ میں اعمال صالحہ بجالانے ہیں۔اپنی طرف سے یہ انعام کیا ہے۔کہ بَشِّرِ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ اَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ اور ان صفات کے متعلق ہمیں یہ بتایا کہ وہ ہمیشہ رہنے والی ہوگی۔اور انسان بھی جب ان پر داخل ہوگا۔تو ہمیشہ ان پر رہے گا۔دراصل اس ابدی حیات طیبہ کی ابتداء اسی زندگی میں ہو جاتی ہے۔اور سوائے اس کے کہ انسان اپنی غفلت اور کوتاہی کے نتیجہ میں یا اپنی تکبر اور نخوت اور فخر کے خیالات کے نتیجہ میں اپنے آپ کومحروم کرے، وہ اس دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔جنتوں کو اپنے ساتھ ہی لے جاتے ہوئے۔نئے سرے سے وہ جنت میں داخل نہیں ہوتا۔جنت میں وہ اسی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔اور پھر ابد تک اس کو جنت کی خوشیاں حاصل رہتی ہیں۔اللہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اگر تم ایمان لاؤ اور ایمان کے مطابق عمل کرو۔تو تمہیں حیات طیبہ عطا کی جائے گی۔حیات طیبہ اس زندگی کو کہتے ہیں کہ جو ہر قسم کے گند اور ناپاکی سے پاک ہو جس کے اندر اطاعت کے خلاف کوئی بات نہ ہوا باء اور استکبار نہ ہو۔کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہوا اور تمام نیکیاں اور خوبیاں اس میں پائی جائیں۔یہ زندگی مجاہدہ کی زندگی ہے۔اس زندگی میں ہم پر ہر آن شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔اور ایک مسلسل جد و جہد اور جنگ شیطانی وساوس شیطانی ماحول غلط قسم کے دوستوں کے مقابلہ پر کرنا پڑتا ہے۔لیکن اللہ تعالی کا یہ وعدہ ہے کہ اگر تم قرآن کریم کے مطابق عمل کرو گے تو شیطان کا کوئی وارتم پر کا میاب نہیں ہوگا۔اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے تمہاری حفاظت کریں گے۔اور تمہیں حیات طیبہ دی جائے گی۔حیات طیبہ اس دنیا سے شروع ہوتی اور اُس دنیا میں جا کر بھی ختم نہیں ہوتی۔اور یہ حیات طیبہ اس کو ملتی ہے۔جو ایمان کے مطابق اعمال صالحہ بجالاتا ہے۔اسلام نے نیک عمل عمل صالح کی یہ تعریف کی ہے کہ جس عمل میں کسی قسم کا کوئی فساد یا شر نہ ہو۔اور جو عمل