مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 82
د مشعل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۶۷ء 82 فیصلہ کرنا چاہئے کہ اسلام سچا مذ ہب ہے یا عیسائیت کچی ہے۔گو امن میں بات کرنے کیلئے کئی طریق فیصلہ ہو سکتے ہیں لیکن اس وقت یہ دو طریق فیصلہ ہیں۔سورة فاتحہ بطور چیلنج میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ غور کریں اور اگر آپ یہ فیصلہ کریں (اور خدا کرے) کہ آپ یہ باتیں مان لیں تو ہمارا فیصلہ ہو جائے گا۔ایک دعوت فیصلہ میں نے ان کے ہاتھ میں یہ پکڑائی کہ سورۃ فاتحہ کے مضامین کے ساتھ اپنی تمام الہامی کتب کے مضامین کا مقابلہ کر کے دیکھ لو۔اگر سورۃ فاتحہ اپنے روحانی مضامین میں اور ترتیب محکم میں اور پھر جو روحانی مضامین کے نشانات ہوتے ہیں ان میں ان تمام الہامی کتب کے مضامین سے بڑھ کر ہو جن میں گوردو بدل ہو چکا ہے مگر آپ انہیں الہامی کتب مانتے ہیں۔تو ہمارے درمیان فیصلہ ہو جائے گا۔میں نے انہیں کہا کہ تم یہ مقابلہ کر لو اگر اس میدان میں ( کہ جو امن سے تبادلہ خیالات کرنے کا میدان ہے ) تمہاری الہامی کتب مقابلہ نہ کر سکیں اور تم شکست کھا لو تو پھر تم قرآن کریم کی طرف رجوع کرو کہ جس کی سورۃ فاتحہ ایک چھوٹی سی سورۃ ہے۔اس کی صرف سات آیات ہیں اور سارے قرآن کے مقابلہ میں یہ چھوٹی سی سورۃ ہے۔وہ مجھ سے بات کرنے لگا تو میں نے کہا۔تمہیں یہاں بات کرنے کی ضرورت نہیں تم مجھ سے ملنے کیلئے بڑی میٹنگیں کر چکے ہو۔یہ دعوت ہائے فیصلہ ہیں مجھے ان کے متعلق جلدی نہیں تم ان کے متعلق آپس میں سر جوڑو۔آپس میں مشورہ کرو ایک کمیٹی آف ایکولز (Committee of Equals) ہے وہاں جو سٹیٹ چرچ کی مجلس منتظم ہے۔اس میں سات آٹھ بشپ ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ تم اسے کمیٹی آف ایونز کے سامنے رکھو۔وہ مشورہ کریں اور پھر ہمیں بتاؤ۔اگر مقابلہ کی تاب ہو تو ہم سے مقابلہ کریں۔جماعت احمدیہ کی ذمہ داری جہاں تک دلائل کا سوال ہے ، جہاں تک مضامین کی برتری کا سوال ہے اس میں شک نہیں کہ دنیا یہ محسوس کر چکی ہے کہ اسلام کے دلائل مضبوط ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت کے طفیل دنیا اسلامی دلائل کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔لیکن صرف دلائل کافی نہیں ہوتے۔کئی دفعہ اشاروں اور کنایوں میں اور بعض دفعہ وہ کھل کر بھی اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلامی تعلیم کا ہمیں کوئی نمونہ دکھاؤ۔میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت جماعت احمدیہ پر یہ سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دنیا کو اپنی زندگی میں اسلام کی عملی تصویر اور شکل دکھائیں۔کیونکہ اگر آج ہم اس میں کامیاب ہو جائیں تو کل یہ دنیا ہمارے قدموں میں ہے۔ہمارے قدم تو کیا ہیں ! ہمارے قدم تو خاک ہیں! دنیا ہمارے خدا کے قدموں میں ہے۔غرض اس وقت اشاعت اسلام اور غلبہ اسلام کے راستہ میں جو بڑی روک ہے وہ عملی نمونہ کا نہ ہونا ہے۔