مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 81 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 81

81 فرموده ۱۹۶۷ء دو مشعل راه جلد دوم ہوں۔اس نے عیسائیت کے سب موجودہ عقائد کا انکار کر دیا ہے اور اعلان کر دیا ہے۔اس پر وہاں بڑا شور مچا۔بڑی لے دے ہوئی اور ایک کمیشن بھی بیٹھا ہے جو نومبر میں اس پادری کا انٹرویو لے گا۔اخباروں میں خط و کتابت شروع ہوگئی۔اس کے جواب میں اس نے بھی ایک اخبار کو خط لکھا جو شائع ہو چکا ہے۔اس پادری نے اس خط میں لکھا کہ اگر تم ایسے پادریوں کی تلاش کرو گے کہ جو ور جن برتھ (Virgin Birth) پر یقین رکھتے ہوں اور تثلیث وغیرہ عقائد مانتے ہوں تو تمہیں کوئی ایسا پادری نہیں ملے گا۔گویا ان پادریوں کے عقائد بدل گئے ہیں۔انہوں نے مسیح کی محبت کو غلط انتہاء تک پہنچایا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس غلط محبت کو زائل کر دیا اور اب وہ لوگ جو مسیح علیہ السلام کو خداوند مسیح خداوند یسوع اور خداوند یسوع مسیح کہتے تھے ان کی زبانیں (عوام ہی کی نہیں بلکہ پادریوں کی زبانیں) صحیح کو گالیاں دے رہی ہیں اور ان کے حق میں ایسے الفاظ استعمال کئے جارہے ہیں جو ہم برداشت نہیں کر سکتے۔پس محبت تو ختم ہوگئی اور تختی صاف ہے۔اب دوسرا قدم یہ ہے کہ اس تختی پر اللہ اورمحمد ﷺ کی محبت کو ثبت کیا جائے اور اسی کیلئے ہمیں قربانیاں دینی پڑیں گی۔عیسائیت کے پاس کوئی دلیل نہیں باقی جو قربانیاں ہیں میں اس وقت انہیں چھوڑتا ہوں وقت بھی زیادہ ہو گیا ہے۔میں صرف ایک چیز بڑے درد کے ساتھ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب میں نے ایک دو مثالیں بھی دی ہیں ( میں اور بھی بہت سی باتیں بیان کر سکتا تھا لیکن اب وقت نہیں ہے ) کہ جہاں تک دلائل کا سوال ہے۔عیسائیت کے پاس اب کوئی دلیل اسلام کے خلاف موجود نہیں اور جہاں تک دلائل کا سوال ہے ہمارے دلائل کو توڑنے کی اب ان میں سکت نہیں۔وہ بارہ پادری جو ڈنمارک کے نمائندہ تھے اور وہ مجھے ملنے کیلئے آئے تھے۔ڈیڑھ گھنٹہ کے انٹرویو کے بعد میں نے ان کے ہاتھوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو پینج پکڑا دیئے۔جو میں نے پہلے سے ٹائپ کروالئے ہوئے تھے۔میں گفتگو کے دوران ان سے ان کے متعلق کوئی بات نہیں کرنی چاہتا تھا۔اس لئے جب ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا اور میں وہاں سے اٹھنا چاہتا تھا تو میں نے ان کے لیڈر سے کہا۔دیکھو مذہب کا معاملہ دل سے تعلق رکھتا ہے اور دل مادی طاقتوں سے فتح نہیں کئے جایا کرتے اگر دنیا کے سارے ایٹم بم اور دنیا کے سارے ہائیڈ روجن بم مل کر بھی کسی ایک دل میں تبدیلی پیدا کرنا چاہیں تو یہ ممکن نہیں۔لیکن جب دنیا میں ایک سچا مذہب قائم ہوتا ہے تو وہ لاکھوں، کروڑوں اور اربوں کے دلوں کو بدلتا چلا جاتا ہے اور جب مذہب کا معاملہ دل سے ہے تو مذہب کے معاملہ میں لڑائی اور جھگڑے کی کیا ضرورت ہے۔اسلام اور عیسائیت میں طریق فیصلہ مذہب کے معاملہ میں مادی طاقت کے استعمال کا کیا مطلب۔امن اور صلح اور آشتی کے فضا میں ہمیں آج