مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 80 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 80

د و مشعل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۶۷ء 80 دستخط کئے ہیں جس کو عیسائیت ڈیفینڈ رآف فیتھ کہتی ہے۔جب میں نے اسے یہ کہا کہ تمہاری یہ حالت ہوگئی ہے اور تم ہمارے نزدیک قابل رحم ہو۔تو وہ پادری جو تعداد میں بارہ تھے ان کے چہرے سرخ ہو گئے اور ان سے بات نہیں کی جاتی تھی۔ان کے ہونٹ پھڑ پھڑاتے تھے۔میں جب انگلستان گیا تو گلاسگو میں ایک صحافی نے مجھ سے پوچھا کہ یہاں آپ نے اس زمانہ کے بعد جو طالب علمی کا زمانہ تھا نہ ہب میں کیا کیا تبدیلی محسوس کی ہے۔میں نے کہا۔میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ اس ملک کے رہنے والے اب عیسائیت میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔اس نے کہا کہ آپ نے یہ استدلال کس چیز سے کیا ہے میں اسے بہت سی باتیں کر سکتا تھا لیکن موقع کے لحاظ سے میں نے کہا کہ میں نے اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ لنڈن میں گر جاؤں کے سامنے فارسیل ( For Sale) کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔یعنی یہ گر جا کی عمارت بکاؤ ہے۔قابل فروخت ہے اور لنڈن کے بہت سے گر جا فروخت ہو چکے ہیں جن میں اب شراب خانے ہیں یا کوئی فیکٹری لگی ہوئی ہے۔میں نے بھی ایک سڑک پر سے گزرتے ہوئے ایک گر جا کے سامنے اس قسم کا ایک بورڈ لگا ہوا دیکھا ہے۔کہ یہ گر جا قابل فروخت ہے۔اور میں نے اسی بات سے استدلال کیا ہے اور نتیجہ اخذ کیا ہے کہ تمہاری قوم کو اب مذہب سے کوئی دلچپسی باقی نہیں رہی۔اس نے پوچھا آپ کے نزدیک اگر گر جا کو مسجد بنادیا جائے تو کوئی حرج تو نہیں۔میں نے کہا جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں لیکن میں اس بات کو اپنی جماعت کیلئے پسند نہیں کروں گا۔اس لئے کہ اس کے نتیجہ میں بہت ساری غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے تو ہم تمہارے ملک میں نئی مسجد بنائیں گے ہم کوئی گر جا خرید کر اسے مسجد میں کیوں کنورٹ (Convert) کریں۔ایک پادری کا عیسائی عقائد سے بکلی دستبرداری کا اعلان میں بتا رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک زبر دست پیشگوئی کی تھی اور وہ یہ تھی کہ ان اقوام تک میرے دلائل پہنچیں یا نہ پہنچیں اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتوں کو نازل کرے گا اور ان کے دلوں سے گندے خیالات کو مٹا دے گا۔اور عیسائیوں کے عقائد مثلاً الوہیت مسیح، تثلیث اور کفارہ وغیرہ قائم نہیں رکھے جائیں گے۔چنانچہ ہم نے کوشش تو کی ہے لیکن ہمارے پاس نہ تو ایسے مینز (Means) ہیں نہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسباب دیئے ہیں اور نہ اس نے ہمیں اتنا پیسہ دیا ہے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو جو ہم پر ہیں اس حد تک پورا کر سکیں جس حد تک ہمارا دل چاہتا ہے۔ہمیں ان ذمہ داریوں کو اس حد تک پورا کرنا چاہیئے جس حد تک ہماری استعداد ہے ، قوت ہے، اختیار ہے لیکن جس حد تک ہم چاہتے ہیں اس حد تک نہ تو ہمارے پاس پیسہ ہے ، نہ آدمی ہیں لیکن قوموں کی تختیاں جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے صاف کر دی ہیں۔انگلستان کے ایک پادری نے اعلان کر دیا ہے کہ نہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ مانتا ہوں نہ یہ مانتا ہوں کہ آپ بن باپ تھے نہ یہ مانتا ہوں نہ وہ مانتا