مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 5
5 فرموده ۱۹۶۶ء د و مشعل راه جلد دوم جس کی ساری مجالس کم سے کم معیار تک پہنچ چکی ہوں تو ایک ضلع بھی علم انعامی کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا۔پس اگر نسبتی طور پر اچھا کام کرنے کے نتیجہ میں تم کوئی انعام نظام سے حاصل کرتے ہو تو وہ اس لئے تمہارے لئے حقیقی خوشی کا باعث نہیں ہونا چاہئے کہ وہ کام اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں پسندیدہ مقام پر نہیں پہنچا۔غرض جب تک ہم تمام مجالس کو بیدار کر کے اور انہیں کام کی اہمیت بتا کر فعال مجالس نہیں بنا دیتے اس وقت تک ہمیں تسلی اور اطمینان حاصل نہیں ہوسکتا۔حقوق اللہ اور حقوق العباد اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو فرمایا ہے کہ قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔یہ دراصل أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ کی ہی تفسیر ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کسی مومن کو کسی جماعت مومنین کو یا نظام کے اندر رہ کر مجالس خدام الاحمدیہ یا جماعت ہائے احمدیہ کو ایک مقام ایسا بھی حاصل ہوتا ہے جس پر پہنچ کر اس فرم مجلس یا جماعت کی زندگی کا ہر فعل خدا تعالیٰ کے لئے بن جاتا ہے اس لئے یہ تصور بھی بالکل درست ہے کہ عبادت کی نسبت خدا تعالیٰ کو اعمال زیادہ محبوب ہوتے ہیں۔ویسے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر عبادت عمل ہے اور ہر شکل کے عمل عبادت کا ہی پہلو اپنے اندر رکھتے ہیں لیکن عبادات یا اعمال کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ایک حصہ کو حقوق اللہ اور ایک حصہ کو حقوق العباد کہتے ہیں۔جب ہم حقوق اللہ کو ادا کر رہے ہوتے ہیں تو ان میں ایک حصہ حقوق العباد کا بھی شامل ہوتا ہے۔مثلاً نماز ہے ہم مسجد میں جاتے ہیں اور نماز باجماعت ادا کرتے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے جو ہم ادا کر رہے ہوتے ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ ہم اس کے مطیع اور فرمانبردار بندے بنتے ہوئے اس کی حمد کریں۔اس کی بلندی اور عظمت کا اظہار کریں۔تضرع اور عاجزی سے اس کے سامنے جھکیں۔غرض نماز ادا کر نا خالصتا اللہ تعالیٰ کاحق ہے لیکن اس نماز کی ادائیگی میں بھی ہم حقوق العباد ادا کر رہے ہوتے ہیں مثلاً نماز میں ہم اپنے لئے اپنے رشتہ داروں کے لئے مجلس اور جماعت کے لئے یا تمام بنی نوع انسان کے لئے دعا کرتے ہیں اور یہ دعا والا حصہ حقوق اللہ میں شامل نہیں کیونکہ اس حصہ میں ہم صرف اس کی حمد نہیں کر رہے ہوتے بلکہ حمد کے قیام کے لئے سامان کر رہے ہوتے ہیں۔ہم یہ سامان کر رہے ہوتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ آدمی اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کرتے ہوئے اس کی حمد میں مشغول ہوسکیں۔یہ حصہ حقوق العباد میں شامل ہے کیونکہ گو ہم نماز میں خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اور اسی سے مانگتے ہیں لیکن مانگتے بنی نوع انسان کے لئے ہیں۔پس حقوق اللہ میں حقوق العباد کا ایک حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔پھر جن اعمال کو ہم حقوق العباد کے نام سے موسوم کرتے ہیں ان میں بھی اللہ تعالیٰ کا حق آ جاتا ہے۔کیونکہ ہر عمل کی بنیاد (اگر وہ عمل صالح ہے تو اللہ تعالیٰ کے حق پر ہے کیونکہ کوئی عمل چاہے وہ کیسا ہی ہو وہ کیا ہی اس لئے جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو وہ خدا تعالیٰ کی خاطر بجالایا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی خاطر بجالایا جانے والا حصہ جو ہے وہ بہر حال خدا تعالیٰ کا حق ہے