مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 73
73 فرمودہ ۱۹۶۷ء دومشعل راه جلد دوم ربوه ۲۲، اکتوبر ۱۹۶۷ء سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے پچیسویں سالانہ اجتماع کے اختتامی اجلاس میں نہایت روح پرور اور بصیرت افروز خطاب فرمایا اور خدام کو قیمتی نصائح سے نوازا۔حضور کے اس خطاب کا متن۔یہ غیر مطبوعہ خطاب ہے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے فضل سے تو فیق عطا کی کہ ہم امسال پھر اپنے سالانہ اجتماع میں شامل ہوں اور کوشش کریں کہ یہاں سے کچھ سیکھیں اور واپس جا کر اس پر عمل کریں اور اپنے ماحول کو سیکھی ہوئی باتوں کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس سال ہمارے اس اجتماع پر گزشتہ سال کی نسبت بہت زیادہ رونق ہے۔جب اللہ تعالیٰ آسمانوں پر کوئی فیصلہ کرتا ہے اور زمین پر اس کا نفاذ کرتے ہوئے اپنی جماعت قائم کرتا ہے تو اس جماعت کا قدم ہمیشہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی توفیق سے یہی چیز ہمیں آج کے اجتماع میں نظر آتی ہے۔قائدین اضلاع کی ذمہ داری گزشتہ سال ۷۷ مجالس سالانہ اجتماع میں شامل ہوئی تھیں اور ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سالانہ اجتماع میں شامل ہونے والی مجالس کی تعدادا تھی۔اور امسال ۲۰۱ مجالس نے حصہ لیا ہے۔یہ ترقی تو ہے مگر ترقی کی یہ رفتار میرے لئے تسلی بخش نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کم و بیش ایک ہزار جماعتیں مغربی پاکستان میں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ چھ سات سو جماعتوں میں یقیناً مجالس خدام الاحمدیہ قائم ہیں اور چھ سات سو مجالس میں سے صرف ۲۰۱ مجالس کا اس اجتماع میں حصہ لینا میرے دل میں فکر پیدا کرتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بڑی ذمہ داری قائدین اضلاع پر ہے۔قائد ضلع کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھے کہ اس کے ضلع میں خدام الاحمدیہ کی ہر مجلس ایک کم سے کم معیار پر قائم ہو اور اگر وہ دیکھتا ہے کہ اس کے ضلع میں کوئی مجلس اپنے اس کم سے کم معیار پر قائم نہیں تو اس کا فرض ہے کہ اس کو زندہ اور بیدار کرنے کی کوشش کرے اور اگر وہ اپنی اس کوشش میں ناکام ہو جائے تو اس کا فرض ہے کہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی امداد حاصل کرے اور اس کمزور مجلس کو جگانے کی کوشش کرے اور اگر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ بھی اپنی کوشش میں ناکام رہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ وقت کو اس کی طرف توجہ