مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 62
د و مشعل راه جلد دوم خدا تعالیٰ ہمیں کہتا ہے۔فرمودہ ۱۹۶۷ء 62 محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالی نے یہ بتایا تھا کہ میں دنیا میں اسلام کو دوبارہ غالب کروں گا اس لئے گھبرانا نہ۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اسلام کے تنزل کے متعلق بھی بہت ساری باتیں بتا ئیں اور کہا گھبرانا نہیں میں تیرے روحانی بچوں میں سے ایک کو کھڑا کروں گا اور اس کے ذریعہ سے اسلام کو دوبارہ غالب کروں گا طبعا ہر آدمی کے دماغ میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے (میں تاریخی واقعہ نہیں بتارہا لیکن قیاس کے طور پر میں سمجھتا ہوں ) کہ جب محمد رسول اللہ ﷺ کواللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ میں تیرے بچوں میں سے ایک کو کھڑا کروں گا۔جو چودھویں صدی میں دوبارہ اسلام کو غالب کرے گا تو آپ کے دل میں یقیناً گھبراہٹ پیدا ہوئی ہوگی کہ کہیں میری امت ٹھوکر نہ کھا جائے ان کو کوئی زبردست نشانی بھی بتانی چاہیے تا کہ وہ ٹھو کر نہ کھائیں۔تو خدا تعالیٰ نے کہا۔دیکھو یہ انسان کے ہاتھ کا کام نہیں۔انسان تو نہیں کر سکتا کہ وہ سورج کو کہے یا چاند کو کہے کہ فلاں تاریخ کو فلاں مہینہ میں تم اپنا منہ اندھیرے میں چھپا لینا جسے ہم گرہن لگنا کہتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے کہا کہ میں سورج اور چاند کو کہوں گا کہ جب میرا مہدی دنیا میں آئے تو تم دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ روحانی طور پر تم اندھیروں میں ہو۔اگر چہ چاند اور سورج کی روشنی اب بھی تم پر پڑ رہی ہے لیکن جو تمہاری روحانی دنیا ہے وہ اندھیری دنیا ہے یہ بتانے کے لئے اور اس مہدی کو سچا ثابت کرنے کے لئے میں چاند اور سورج کو کہوں گا کہ اندھیرے میں اپنے آپ کو چھپا لو۔چنانچہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہدی بنا دیا گیا ہوں اور میرے سپرد یہ کام ہے کہ میں اسلام کو ساری دنیا پر غالب کروں۔تو مسلمانوں میں جو پڑھے لکھے لوگ تھے اور انہوں نے حدیث کی پرانی کتابیں پڑھی ہوئی تھیں۔انہوں نے دنیا میں ای شور مچادیا اور کہا ہم نہیں مانیں گے کبھی نہیں مانیں گے۔کیوں نہیں مانو گے؟ اس لئے نہیں مانیں گے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالی نے کہا تھا کہ جب میں اپنے مہدی کو بھیجوں گا تو اس وقت چاند اور سورج کو کہوں گا کہ دنیا کو اندھیرا ہو کر اور گرہن لگ کر دکھا دو ( اور خاص معین تاریخوں میں رمضان کی تیرہ تاریخ کو چاند اور اسی رمضان کی اٹھائیس تاریخ کو سورج اور محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی ساری امت کو اور ساری دنیا کو یہ بتا دیا تھا کہ جو ایسا مہدی دعویدار ہو جس کے لئے سورج اور چاند گواہی دیں وہی مہدی میرا سچا مہدی ہے۔چنانچہ ساری دنیا میں پڑھے لکھے لوگوں نے شور مچادیا کہ ہم نہیں مانیں گے چاند اور سورج کو گرہن نہیں لگا۔وہ اندھیرے نہیں ہوئے اس لئے تمہارا دعویٰ ٹھیک نہیں۔تمہارا دعویٰ درست نہیں۔قریباً چار سال وہ لوگ شور مچاتے رہے کہ ہم نہیں مانیں گے۔ہم نہیں مانیں گے چاند کو اس تاریخ کو گرہن نہیں لگا جو بتائی گئی تھی اور سورج کو بھی اس تاریخ کو گرہن نہیں لگا جو بتائی گئی تھی۔جب ساری دنیا میں ان لوگوں نے اچھی طرح مشہور کر دیا کہ بچے مہدی کے لئے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ چاند کو بھی اور سورج کو بھی حکم دے گا کہ وہ رمضان کی معینہ تاریخوں میں جو پہلے سے مقرر کی گئی ہیں اور جن کا اعلان کیا گیا ہے گرہن لگ جائے اور جب ساری دنیا کو پتہ لگ گیا تو خدا تعالیٰ نے چاند اور سورج کو کہا اٹھو اور دنیا میں میرے اس بندہ کے لئے گواہی دو کہ یہ سچا ہے۔