مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 3 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 3

3 فرموده ۱۹۶۶ء دومشعل راه جلد دوم ۲۹ مئی ۱۹۶۶ کومجلس خدام الاحمد بی مرکز بہار وہ کے ہال میں قائدین اضلاع اور مرکزی متمین خدام الاحمدیہ سے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے خطاب کا مکمل متن تشہد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا قانون قدرت بھی یہی ہے اور الہی سلسلوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا سلوک ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ بعض حالات میں تھوڑی کوشش کا بھی نتیجہ نکلتا ہے اور بعض حالات میں اتنی ہی کوشش کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نہیں نوازتا اور اس کا وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو ہم چاہتے ہیں کہ نکلے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک پہاڑ پر انسان چڑھ رہا ہو اب بعض جگہ پہاڑ کا سلوپ (Slope) زیادہ نہیں ہوتا اس لئے انسان تھوڑی سی محنت سے چڑھائی چڑھتا چلا جاتا ہے یعنی تھوڑی سی کوشش سے وہ بلندی حاصل کر سکتا ہے لیکن بعض ایسی جگہیں بھی آجاتی ہیں جہاں سلوپ بڑا سٹیپ (Steep) یعنی بہت زیادہ سیدھا ہوتا ہے وہاں اگر اتنی کوشش کی جائے جو کم چڑھائی پر کی جاتی ہے تو اس کا نتیجہ ایک انچ آگے نکلنا بھی نہیں نکلتا بلکہ وہاں انتہائی کوشش کرنی پڑتی ہے ورنہ انسان اتنی بلندی پر نہیں پہنچ سکتا جس تک پہنچنے کا اس نے ارادہ کیا ہوتا ہے یہی حال الہی سلسلوں کا ہے۔بعض دفعہ ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ تھوڑی سی کوشش سے بھی کچھ نہ کچھ نتیجہ نکلنا شروع ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ الہی سلسلہ ایسی حالت میں داخل ہوتا ہے یا وہ ایسی حالت میں سے گزر رہا ہوتا ہے کہ اس موقعہ پر اور اس وقت میں انتہائی کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔اس وقت ہماری جماعت ایک نازک دور میں داخل ہو چکی ہے اور ہمارے سامنے عام سلوپ ( ڈھلوان ) نہیں کہ ہم تھوڑی سی کوشش کے نتیجہ میں بھی آگے ہی آگے بڑھتے جائیں بلکہ اگر ہم اس مثال کو سامنے رکھیں تو اس وقت ہم جن بلندیوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ قریباً عمودی چڑھائی پر واقع ہیں۔ہم نے ان بلندیوں پر بہر حال چڑھنا ہے اگر اس وقت ہم میں کوئی خامی پیدا ہو جائے یا ہم سے ذراسی کو تا ہی بھی سرزد ہو جائے تو ہم کسی صورت میں بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔اس وقت احمدیت کی حالت ہم سے انتہائی قربانیوں کا مطالبہ کر رہی ہے اور اگر اس وقت ہم انتہائی جد و جہد۔انتہائی قربانی اور انتہائی ایثار کانمونہ نہ دکھا ئیں تو جماعت کسی صورت میں بھی کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتی۔پس ہماری اس نسل پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ہمیں اس وقت انتہائی کوشش اور انتہائی مجاہدہ کی ضرورت ہے۔مجالس کے کام کا جائزہ۔۔۔۔ر پورٹس کی ترسیل اس موجودہ حالت میں اور مذکورہ نقطہ نظر کے لحاظ سے خدام الاحمدیہ کے کام پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ مجلس کے بعض ممبر بڑا ہی اچھا کام کرنے والے ہیں۔اور بعض مجالس ایسی ہیں جن کا کام واقعہ میں اچھا اور قابل