مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 590 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 590

فرموده ۱۹۸۲ء 590 د مشعل راه جلد دوم تلوار چلا تا تھا ایک سپاہی دشمن کے مقابلہ میں۔اس وقت کسری کے مقابلہ میں جب کسری نے ( بہت بڑی طاقت Millions) کی یعنی لکھو کھا لکھوکھا کی فوج ان کے پاس) اور حملہ کر دیا مسلمانوں پر سازش کر کے۔پہلے ابتداء کی انہوں نے ہی وہ سازش کی تھی اور پھر اٹھارہ ہزار مسلمان اور ہر جنگ جو دوسرے تیسرے چوتھے دن ہوئی ہے ان کے مقابلہ میں تازہ دم فوج آتی تھی۔ان کا کمانڈر انچیف بھی ایک نیا آدمی بڑا تجربہ کار اس زمانے میں (اب تمغے دیتے ہیں نا اپنے جرنیلوں کو ) اس وقت کسری نے یہ کہا ہوا تھا کہ یہ یہاں تک پہنچا ہوا یعنی جس کو یہاں کور کمانڈر کہا جاتا ہے آج کل قریباً اس معنی میں یعنی جس کے ماتحت۔ستر اسی ہزار کی فوج ہے۔اس کو ایک لاکھ ہیرے جڑے ہوئے ٹوپی پہننے کی اجازت تھی اور اس کی Treasury اس کا خزانہ کسری کا اس کو وہ ٹوپی دیتا تھا نشان اس کا کہ بہت بڑا وہ ہے جرنیل۔اگر آٹھ گھنٹے کی جنگ ہو اور اٹھارہ ہزار سے چار گنا زیادہ سامنے فوج ہو تو ہر دو گھنٹے کے بعد کسری کی فوج کی لڑنے والی صنفیں پیچھے ہٹ جاتی تھیں اور تازہ دم پچھلی صف جو تھی وہ آگے آجاتی تھی اور چار دفعہ ہوتا تھا دن میں ایسا۔اور مسلمان صبح سے شروع کرتا تھا اور آٹھ گھنٹے تک تلوار چلاتا رہتا تھا۔خدا کے فضل نے یہ طاقت دی تھی۔ابھی حال ہی میں ایک نئی چیز میرے سامنے آئی وہ یہ کہ جو شخص مثلاً اپنے دائیں بازو سے کام لے رہا ہے سخت کام مثلاً آجکل گندم کائی جارہی ہے نا تو بڑا بوجھ ہے۔اس مزدور پر جو دوسروں کی جائے گندم کاٹ رہے ہیں۔صبح لگتے ہیں اور شام تک کاٹتے رہتے ہیں داتری چل رہی ہے نا اس طرح داتری سے وہ کاٹ رہے ہیں اور ایسے کیسز (Cases) ہیں کہ بہتوں میں کلاٹ (Clot) ہو جاتا ہے اور موت بھی ہو جاتی ہے داتری چلا کے۔اور آٹھ گھنٹے مسلمان تلوار چلاتا تھا اور تاریخ میں کہیں ایک واقعہ بھی نہیں ایسا کہ جہاں اس کے خون میں Clot ہوا ہو لوتھڑا جم گیا ہوخون کا اور ہارٹ فیل ہو گیا ہو اس قسم کی خدا تعالیٰ نے ان کو سمجھ عطا کی اور اس طرح انہوں نے ورزشیں کیں اور مضبوط بنایا اپنے جسموں کو کہ عملاً یعنی ایک تو یہ تھا نا کہ چار گنا فوج سے وہ لڑ رہے تھے اور بالکل نڈر ہو کر ایک لحظہ کے لئے بھی یہ خوف نہیں پیدا ہوتا تھا ان کے دل میں کہ ہم شکست کھا جائیں گے کیونکہ ان کا تو کل اپنے ہتھیار پر یا اپنی مہارت پر یا اپنے جسموں کی مضبوطی پر یا اپنی چالاکیوں پر نہیں تھا۔ان کا تو کل تھا اپنے پیدا کرنے والے اس رب پر جس نے محمد رسول اللہ لہ کے ذریعہ سے ان کو یہ بشارت دی تھی۔انتم الاعلون ان كنتم مومنین(آل عمران: ۱۴۰) ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے چلے جانا اور کوئی غیر تم پر غالب نہیں آسکتا۔عجیب ہے یہ واقعہ کہ ہر دو گھنٹے کے بعد تازہ دم فوج سے لڑرہے ہیں اور فاتح ہوتے ہیں اور ہر دو گھنٹے کے بعد تازہ دم صفیں آگے آرہی ہیں اور شکست کھا رہی ہیں۔اتنا بھروسہ تھا۔ہم طارق کی کشتیاں جلانے کا بھی ذکر کرتے ہیں۔انہی میدانوں میں ایک دن خالد بن ولیڈ نے اٹھارہ ہزار فوج میں سے چار ہزار گھوڑ سوار فوج نکال لی اور صرف چودہ ہزار کو دشمن کے سامنے رہنے دیا۔کس امید پر ؟ ان کو پتہ تھا مسلمان پیٹھ نہیں دکھاتا۔لڑتا رہے گا۔