مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 589
589 فرموده ۱۹۸۲ء دد د و مشعل راه جلد دوم قرآن کریم نے هدى للمتقین اور لایمسه الا المطهرون کہہ کے عظمتوں کے عظیم دروازے ہماری زندگیوں میں کھولے اور زمین سے اٹھا کر آسمانی رفعتوں تک پہنچانے کے سامان ہمارے لئے پیدا کئے۔باقی جو مجاہدہ کرے گا جو کوشش کرے گا جو خدا سے مانگے گا وہ پائے گا۔آپ میں اور غیر میں ایک امتیاز ہے۔آپ میں اور غیر میں جو یہ امتیاز ہے۔یہ ہر ایک کو نظر آنا چاہیئے۔آپ کو بھی احساس ہونا چاہیئے کہ مجھ میں اور غیر میں کیا فرق ہے اور غیر کو بھی یہ احساس ہونا چاہیئے کہ آپ میں اور اس میں کیا فرق ہے؟ بعض دفعہ شرم بھی آتی ہے کہ بعض احمدی بھی کمزوری دکھا جاتے ہیں۔مثلاً دیانتداری کے معاملے میں لا کھ دو لاکھ میں ایک آدھ احمدی بھی ایسا ہو جاتا ہے۔لیکن دنیا جس مقام پر افراد جماعت احمدیہ کو دیکھتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض دفعہ ایک غیر احمدی احمدی کے پاس آ کر یہ کہتا ہے کہ فلاں شخص ہے اس کے پاس میری سفارش کر دو اور وہ احمدی ہے وہ آپ کی بات مان جائے گا اور وہ احمدی نہیں ہوتا۔جو ہوتا ہے وہ یہ کہ وہ دیانت دار ہوتا ہے۔اور جو احمدی نہیں ہوتے، سمجھتے ہیں کہ احمدیوں سے باہر تو کوئی دیانتدار ہو ہی نہیں سکتا۔چونکہ یہ دیانتدار ہے ضروری ہے کہ یہ احمدی ہوگا۔اس مفروضے کے اوپر وہ آجاتے ہیں۔اور بعض احمدی ہیں جو دیانت کے اس معیار پر قائم نہیں رہتے اور ہمارے لئے دکھ اور خفت کے سامان پیدا کرتے ہیں۔ہم جس دور میں داخل ہو چکے ہیں، آپ کی عمر چھوٹی ہے۔آپ کو احساس نہیں ہوگا ہم جو ایک عمر گزار چکے ہیں اور دنیا کو اچھی طرح دیکھا اور پرکھا ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جس وقت آپ بھر پور جوانی میں اور فعال زندگی میں داخل ہوں گے تو روحانی جنگ اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہوگی۔اس وقت ایک تو زمانہ نوع انسانی اپنی فلاح اور بہبود یعنی اپنی بھلائی کے لئے اپنی خوشحالی کے لئے اور اپنی اس غرض کے لئے کہ ہلاکت سے بچنے کے سامان ہوں، وہ آپ کی محتاج ہوگی اور اگر آپ نے ان کی ہدایت کے سامان اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ کیے تو یہ دنیا فنا ہونے کے کنارے پر کھڑی ہے بالکل جس طرح یہاں سے بس ایک قدم آگے لیا اور نیچے جاپڑی۔اس وقت یہ حالت ہے۔کھیلیؤ اس غرض سے کہ تمہارے اندر طاقت پیدا ہو وہ بوجھ اٹھانے کی جو عنقریب تمہارے کندھوں پر پڑنے والا ہے۔بعض رپورٹیں میرے پاس مثلاً یہ آ جاتی ہیں کہ ہمارا بچہ جو ہے وہ کھیل میں بڑا اچھا ہے لیکن کھیلنے کے بعد ( ہمارے ملک میں تو عام طور کھیلیں عصر اور مغرب کے درمیان ہوتی ہیں) وہ گھر آتا ہے عشاء کی نماز کے بھی ایک گھنٹے کے بعد اور دوستوں میں کمپیں مارتا رہتا ہے اپنی کھیل کے متعلق۔اس غرض کے لئے تو نہیں ہم لوگ انتظام کرتے، تمہاری ورزشوں کا یا اللہ تعالیٰ نے تمہاے گھروں میں دولت دے کر تمہاری ورزش کا انتظام اس غرض سے نہیں کیا۔کھاؤ اس لئے نہیں کہ بنیوں کی طرح موٹے ہو جائیں گے تمہارے پیٹ بلکہ اس لئے کہ تمہارے مسلز جو ہیں اتنے مضبوط ہوں گے کہ دنیا کی کوئی طاقت کاری ضرب تمہارے جسموں کو نہیں لگا سکے گی۔ورزش کرو۔اپنے جسموں کو بناؤ۔میں حیران ہوتا ہوں۔جس وقت جنگ کی شکل کچھ اور تھی، سارا دن یا دن کا کچھ حصہ