مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 588
فرموده ۱۹۸۲ء 588 د دمشعل راه باراه جلد دوم اس واسطے کہ جو شرط لگائی تھی اور جو معیار قائم کیا گیا تھا لا يمسه الا المطهرون (الواقعہ آیت: ۸۰) میں کہ پاکیزگی اور طہارت اور تقویٰ کے بغیر (هدی للمتقین ) کوئی شخص قرآنی علوم اور معارف اور اس کے چھپے ہوئے اسرار اور اس کی تعلیم سے صحیح استفادہ نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا ایک زندہ تعلق نہ پیدا ہو جائے۔احمدی طفل یا خادم اور غیر میں فرق مجھے افسوس ہے کہ ہمارے جو مبلغین اور مربی ہیں وہ بھی گاؤں گاؤں میں پھرتے ہیں اس بات پر اتنا زور نہیں دیتے جتنا دینا چاہیئے کہ ایک احمدی طفل یا خادم یا ایک احمدی نوجوان اور ایک غیر میں فرق ہی یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا ہر فرد اس صداقت پر اجتماعی زندگی گزار رہا ہے کہ اجتماعی زندگی جماعت احمدیہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی یہ ہے کہ ایک زندہ خدا ہے جس کے ساتھ اجتماعی زندگی میں جماعت کا ایک زندہ تعلق ہے۔اور یہ برکتیں محمد رسول اللہ اللہ کے طفیل ہمیں ملی ہیں۔آپ کو چھوڑ کے آپ سے دور ہو کر آپ سے پیار نہ کرتے ہوئے بھی یہ چیز ہمیں نہیں مل سکتی تھی۔آپ سے پیار کے نتیجہ میں ( قرآن کریم نے اس کا اعلان کیا، اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں) اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے بعد خدا تعالیٰ کی پناہ میں آجانے کے بعد یعنی تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں خدا تعالیٰ کی مدد کے حصول کی خواہش رکھتے ہوئے جماعت احمدیہ آگے بڑھ رہی ہے۔روحانی فوائد کے علاوہ جماعت احمدیہ کو ان ظاہری علوم میں بھی بڑا فائدہ پہنچا ہے اس لحاظ سے کہ اگر آپ نہیں (اور کیوں آپ نہیں ؟ آپ کو بھی دعائیں کرنی چاہئیں ) تو آپ سے تعلق رکھنے والے بیسیوں بعض دفعہ سینکڑوں دل ایسے ہیں جو متضرعانہ عاجزی کے ساتھ تضرع کے ساتھ روتے ہوئے خدا کے حضور جھکتے اور اس سے آپ کے دماغ کی دنیوی علوم کے حصول کے لئے جزا اور روشنی طلب کرتے ہیں اور خدا سے وہ طلب کرتے ہیں اور پاتے ہیں۔تو هدى للمتقین ، قرآن کریم کی ہدایت صرف اس کو ملتی ہے جو خدا تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرتا اور اس کی پناہ میں آ جاتا ہے اس کے سائے میں اپنی زندگی گزارتا ہے جو اپنے ہر فعل کو خدا تعالیٰ کے اخلاق کی روشنی میں دیکھتا اور پر کھتا ہے اور اس راہ پر نشو و نما کرتا ہے اس کی کہ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے اخلاق اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلووں کا رنگ اس کے اوپر آئے اور عام زبان میں ہم کہتے ہیں کہ وہ انتہائی اعلیٰ مقام تہذیب کے اوپر کھڑا ہو جائے مہذب ہو۔زبان ستھری، کان جو ہیں ان کو غیبت سننے وقت ضائع کرنے کے لئے گئیں مارنے کی باتیں جو ہوتی ہیں، ان کی عادت ہی نہ ہو۔کان کے اندر جو آواز پڑے وہ پاک ہو۔زبان سے جو آواز نکلے وہ ستھری ہو۔دماغ میں جو خیالات آئیں وہ مطہر ہوں یہ خدا سے ڈرتے ہوئے اپنی زندگیوں کے دن لیکن دنیا کی نگاہ میں ہنستے مسکراتے بشاشت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آگے ہی آگے بڑھنے والے بچو! تم ہو وہ بچے۔