مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 580 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 580

و مشعل راه جلد دوم د فرموده ۱۹۸۱ء 580 سید نا حضرت اقدس خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی نے۱۳ نومبر ۱۹۸ء کوخدام الاحمدیہ کے گیسٹ ہاؤس میں عشائیے میں از راہ شفقت شرکت فرمائی اور خدام کو اپنے خطاب سے نوازا۔فرمایا:- پہلے تو میں نے کہا تھا اس کا جواب الجواب بھی صدر صاحب دیدیں۔پھر مجھے خیال آیا کہ انفارل (Informal) کچھ باتیں کہہ دوں جومزید دعا کا تقاضا کرتی ہیں۔میرے دل میں خواہش یہ ہے کہ خدا کرے کہ ایسا ممکن ہو جائے کہ آئندہ سال اللہ تعالیٰ جب سپین کی مسجد کے افتتاح کی توفیق دے تو اسی موقع پر اٹلی کی مسجد مشن ہاؤس کے افتتاح کا بھی سامان پیدا ہو جائے۔ان ملکوں میں اس قسم کی چھوٹی چھوٹی عمارتیں جو اس وقت ہم بنا سکتے ہیں، پانچ چھ مہینے کے اندر تعمیر ہو جاتی ہیں، آسانی کے ساتھ۔اٹلی میں ابھی زمین کے متعلق آخری فیصلہ نہیں ہوا لیکن امید ہے کہ بیس نومبر تک آخری فیصلہ ہو جائے گا۔( محترم نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ) ان کو لکھ دینا آفتاب کو کہ ہیں، کیس کو فون کے اوپر اطلاع دیدیں۔اور ان کو یہ بھی لکھنا ہے کہ وہاں کے آرکیٹیکٹ کو بھی کہیں کہ وہ دوتین نقشے جو بنا رہا ہے ( محترم نائب صدر صاحب سے مخاطب ہو کر وہ تو ابھی بھیج دیتا ہے ) وہ لے کے آئیں گے۔اگر جنوری میں بھی ہو جائے ہمارا معاہدہ تو وہ آسانی سے بنا سکتا ہے۔کم از کم اتنی تعمیر ہو سکتی ہے کہ اس کا افتتاح بھی آگے پیچھے ہو جائے۔یہ اس صدی ہجری کا دوسرا سال شروع ہوا ہے ناں اب یکم محرم سے۔تو اگلے یکم محرم سے پہلے اگر ان دو مساجد اور کیلگری کا بھی (افتتاح) ہو جائے تین مسجدوں کا تو بڑی چیز ہے ایک سال کے اندر۔پہلے تو جو حالات تھے کئی سالوں کے بعد ایک ایسا موقع آتا تھا اور اس میں بھی مستورات بڑا حصہ لے گئیں۔کیونکہ مرد نے ( یہ فرق ہے دو کی قربانی میں ) اپنی کمائی میں سے قربانی دینی ہوتی ہے۔عورت نے اپنی پس خوردہ میں سے قربانی دینی ہوتی ہے جو اُس نے اکٹھا کیا ہوتا ہے۔تحفہ ملا خاوند نے زیور بنا کے دیا اُس کو۔کئی عورتوں نے سارا زیورلا کے دے دیا تھا مساجد کے لئے۔ویسے خدا تعالی قرض رکھتا نہیں۔بڑا دیتا ہے۔تو عورتیں لے گئیں تو اب اب خدام الاحمدیہ تو پہلی دفعہ آئے نامیدان میں۔جماعت بحیثیت جماعت جس میں انصار اور خدام اور مستورات شامل ہیں، انہوں نے بھی بہت ہیں مسجدیں بنائیں اور اب ” خدام آئے ہیں۔اب مشکل یہ ہے کہ پاکستان سے رقم باہر نہیں جاسکتی۔تو یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان سے باہر بسنے والے نوجوان خدام احمدیوں نے اتنی بڑی قربانی دے دی کہ دو مسجدیں