مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 574
فرموده ۱۹۸۱ء 574 د و مشعل راه جلد دوم حضور نے ۱۹۶۰ ء سے لے کر اب تک مختلف صداران مجالس خدام الاحمدیہ کے زمانوں میں اجتماعات میں مجالس کی نمائندگی کے گراف کا ذکر کرنے اور اس میں ایک مرحلہ پر درمیان میں تنزل کے علاوہ تدریجی ترقی کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرمایا میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کامیابی ووٹ لینے والوں کو نہیں خلیفہ وقت کی دعائیں حاصل کرنے کے نتیجہ میں ملتی ہے۔پچھلی دفعہ پانچویں نمبر پر ووٹ لینے والے صاحب کو صدر بنایا گیا تھا ان کے پہلے سال اے کے مجالس حاضر تھیں اور دوسرے سال یعنی اس سال ۸۱۸ مجالس حاضر ہیں۔حضور نے فرمایا امسال لجنہ نے بھی میری تحریک پر زیادہ بہتر رد عمل کا مظاہر کیا ہے۔حضور نے محترم صاحبزادہ مرزا فرید احمد صاحب کی کارکردگی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے فرمایا ممالک بیرون میں خدام الاحمدیہ کی مجالس اور تنظیم کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر تھی۔اس صورت حال میں پچھلے سال خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے درخواست کی کہ بیرونی ممالک میں دو سال کے اندر اندر دو مساجد کے قیام کے لئے یورپ اور امریکہ کے خدام سے رقم اکٹھی کرنے اور مساجد تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے جس کا مطلب یہ تھا جگہ کے لئے ۴ لاکھ پاؤنڈ یعنی قریباً اسی لاکھ پاکستانی روپیہ اکٹھا کرنا تھا۔حضور نے فرمایا کہ ان ممالک میں خدام کی جو تنظیم تھی اس کے پیش نظر میرا خیال نہیں تھا کہ خدام اس کو بہت جلدا کٹھا کر لیں گے۔مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ مرزا فرید احمد کے دورے کے نتیجے میں ۴، ۵ مہینے کے اندر اندر ۲ لاکھ ۲۰ ہزار پاؤند یعنی قریباً ۵۲ لاکھ رو پیدا کٹھا ہو کر بنک میں جمع ہو چکا ہے۔تین لاکھ پاؤنڈ بھی شاید اور تھوڑے عرصے میں ہو جائے۔حضور نے فرمایا کہ زمین حاصل کرنے کے راستے میں بڑی مشکلات تھیں۔ایک جگہ دیکھی کسی احمدی نے کہا کہ یہاں تو زلزلے آتے ہیں ، مکان گر جاتے ہیں، میں نے کہا کہ یہ بات تو میرے لئے اور اچھی ہے کہ لوگ یہاں سے بھاگیں گے تو زمین ستی مل جائے گی۔اور زلزلے کا مجھے کوئی خوف نہیں مجھے خدا پر یقین ہے جس نے ہمارے حضرت اقدس سے یہ کہلوایا کہ مجھے آگ سے مت ڈراؤ۔آگ تو ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے اور یہ زلزلہ بھی تو زیرزمین آگ کی وجہ سے ہی آتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ انشاء اللہ جلسے سے پہلے پہلے یہ زمین مل جائے گی اور امید ہے کہ ایک سال کے اندراندر مسجد بھی بن جائے گی۔حضور نے فرمایا کہ اس علاقے میں بڑے سخت کٹر عیسائی ہیں لیکن متعصب نہیں ہیں۔حضور نے فرمایا کہ میں آج اس اجتماع میں مرکز احمدیت ربوہ سے پاکستان کے تمام خدام کی طرف سے اپنے ان تمام بھائیوں کو جزاکم اللہ کہتا ہوں جو یورپ، امریکہ اور کینیڈا میں بسنے والے ہیں۔انہوں نے انتہائی قربانیاں اللہ تعالیٰ کے گھر کے لئے دی ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بہتر سے بہتر جزا دے اور ترقیات کی راہوں پران کے قدم اور تیز کر دے۔آمین حضور نے محترم صاحبزادہ صاحب کے کام کی تعریف فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب نے جو کام کیا ہے وہ قابل قدر ہے۔یہ میں اس لئے نہیں کہ رہا کہ وہ میرا بیٹا ہے۔بلکہ میں خلیفہ وقت کی حیثیت سے