مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 575 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 575

575 فرموده ۱۹۸۱ء دو مشعل راه جلد دوم اس کام کو سراہتا ہوں۔وہ ایک خادم ہے اس نے دن رات کام کر کے یہ کامیابی حاصل کی۔وہ یہ کام ہرگز نہ کر سکتا تھا ہاں اللہ تعالیٰ نے اس کے کام میں برکت ڈالی۔حضور نے فرمایا کہ یہ بڑی رقم ہے۔ہمارے پاکستان کی کل جماعت کا جو چندہ ہے اس کے ۵۰ فیصد سے زائد ہے۔صاحبزادہ صاحب نے ان لوگوں سے پیار بھی کیا۔سمجھایا بھی جھنجھوڑا بھی۔میں خلیفہ وقت کی حیثیت سے آپ سب کی طرف اسے ایک انعام دیتا ہوں۔حضور انور نے یہ کہہ کر محترم صاحبزادہ صاحب کو آواز دی اور فرمایا :- ادھر آؤ محترم صاحبزادہ صاحب اس وقت پنڈال کے پچھلے حصے میں کھڑے حضور کا خطاب سن رہے تھے۔حضور کا ارشادسن کر وہ تیزی سے آئے۔تمام نظریں صاحبزادہ صاحب کی طرف اٹھ گئیں۔حضور نے بھی اپنا خطاب روک دیا اور مڑ کر صاحبزادہ صاحب کا انتظار کرنے لگے۔یہ لمحے بڑے یاد گار تھے۔پندرہ ہزار کا مجمع اشتیاق سے سانس رو کے حضور انور اور صاحبزادہ صاحب کی طرف دیکھ رہا تھا کہ دیکھیں امام وقت ایک محنتی خادم کو اس کی عظیم اور تاریخی خدمات پر کیا انعام مرحمت فرماتے ہیں۔سٹیج پر بیٹھے ہوئے لوگوں نے ادھر ادھر ہٹ کر صاحبزادہ صاحب کو راستہ دیا اور حضور نے اس محنتی اور لائق خادم کا سر اپنے مبارک ہاتھوں میں تھام کر ان کے ماتھے کے دائیں طرف بوسہ دیا۔درجنوں کیمروں کی فلیش لائٹس چمکیں اور یہ تاریخی لحہ ہمیشہ کے لئے کیمروں میں محفوظ کر لیا گیا۔حضور کا بوسہ حاصل کرنے کے بعد محترم صاحبزادہ صاحب نے حضور انور سے مصافحہ کرنے کی سعادت حاصل کی۔واپس جاتے ہوتے صاحبزادہ صاحب جذبات کا جوش سے آبدیدہ ہو گئے اور رومال نکال کر اپنے آنسو خشک کرتے رہے۔حضور نے پھر فرمایا ہر آدمی جو نیک نیتی سے کام کرے اس کا نتیجہ اللہ تعالی دیتا ہے۔اس ضمن میں حضور نے برطانیہ کے مشنری انچارج محترم شیخ مبارک احمد صاحب کا ذکر فرمایا جن کی مساعی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک سال کے اندر اندر برطانیہ میں پانچ مشن ہاؤس قائم کروا دیئے۔حضور نے فرمایا کہ جب انہوں نے یہ اعلان کیا تو ان کی بات ایک گپ لگتی تھی اور پریس کانفرنس میں جب مجھ سے یہ پوچھا گیا کہ کیا واقعی ایک سال میں برطانیہ میں پانچ مراکز احمدیت قائم ہو جائیں گے تو میں نے یہ سوچ کر ہاں کر دی کہ اب انہوں نے کہہ دیا ہے تو خدا تعالیٰ بھی غیرت رکھنے والا ہے وہ ضرور برکت ڈالے گا۔جب کام شروع کیا گیا تو اس کام کے لئے ایک پیسہ بھی نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے نتیجہ میں سال سوا سال میں پانچ مراکز قائم کر دیئے۔سید نا حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چار قو تیں اور استعدادیں انسان کو عطا کی گئی ہیں۔یہ جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی استعدادیں ہیں۔احمدی مردوں اور عورتوں کو ہر استعداد کے میدان میں ساری دنیا سے آگے نکل جانا چاہئے۔حضور نے فرمایا کہ اس کے بغیر اسلام دنیا پر غالب نہیں آ سکتا۔