مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 521
521 فرموده ۱۹۷۹ء دد د و مشعل راه جلد دوم تعالیٰ نے پیار کے سلوک میں کوئی کسر نہیں چھوڑی وہ مرنے کیلئے تیار تھا۔خدا نے اس کو مرنے نہیں دیا۔اس نے کہا میں تجھے زندہ رکھوں گا۔۱۲۰ سال تک جو جوانی میں ۳۳ سال کی عمر میں جان دینے کیلئے تیار ہوا تھا۔۱۲۰ سال تک خدا نے اس کو زندگی عطا کی۔بڑا معجزہ ہے اس کی ساری زندگی اور ہم دعائیں کرتے ہیں حضرت مسیح علیہ السلام کیلئے۔کیونکہ جن علاقوں میں وہ پھرے ہیں ان میں یہودی قبائل کو ذہنی طور پر تیار کیا تھا اس بات کیلئے کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت قریب ہے جب وہ آئیں تو مان لینا۔اور جس وقت اسلام ان علاقوں میں گیا تو قریباً سارے کے سارے یہودی قبائل مسلمان ہو گئے۔وہ افغانستان اور ایران کے شمالی حصوں میں اور ہندوستان اور کشمیر اور گلگت وغیرہ کی طرف گئے تھے شاید کوئی اکا دُکا بچ گیا ہو۔اس وقت تو کوئی آثار ایسے نظر نہیں آتے کہ ان میں کوئی اسلام سے باہر رہ گیا ہو تو بڑی خدمت کی ہے بنی اسرائیل کی اس معنی میں کہ وہ نور جو اپنی انتہاء کو پہنچ کر دنیا کی طرف آیا تھا اس سے جہاں ان کے دوسرے قبائل نے آنکھیں بند کیں انہوں نے نہیں کیں اور قبول کر لیا۔بہر حال ہر انسان کی عزت اور احترام کو قائم کرنا یہ ایک حق ہے جو اسلام نے قائم کیا ہے۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ ہر حکم جو اسلام نے دیا وہ ہمارے اپنے فائدے کے لئے ہے اور ہر حکم ایک حق قائم کرتا ہے انسان کا۔اور اس کی حفاظت کا حکم ہے اس میں اور ہر چیز جس سے منع کیا گیا (نہی جسے کہتے ہیں نوا ہی جمع ہے اس کی وہ روکا اس لئے نہیں گیا کہ ہمیں تکلیف پہنچے بلکہ اس لئے روکا گیا ہے کہ ان میں سے ہر چیز ہر فعل جس سے روکا گیا ہے ان حقوق کو پامال کرنے والا اور تلف کرنے والا تھا جو خدا نے قائم کئے تھے خدا نے انسان کے حقوق کی حفاظت کی اور انسان کو کہا یہ باتیں نہ کرنا۔تمہارے حقوق تمہارے اپنے ہاتھوں تلف ہو جائیں گے۔میں نے بتایا تھا کہ میں آج اصولوں کی باتیں کروں گا تو یہ ایک اصول ہے جس کی یہ ساری تمہید بن جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے کہا كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران: ۱۱۱) تم بنی آدم میں سب سے اچھی امت ہو اس لئے کہ بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے تمہیں قائم کیا گیا ہے۔یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے چند الفاظ ہیں مگر جس عظمت پر جس رفعت پر ایک مسلمان کو بٹھایا گیا ہے اگر وہ اسے یادرکھے تو دنیا سے ہرقسم کا فساد دور ہو جائے اور ہر طرح امن قائم ہو جائے اور پیار اور اخوت پیدا ہو جائے اور ہر ایک کو اس کے حقوق ملنے لگ جائیں اور کسی کی حق تلفی نہ ہو اور مسرتوں سے بھر پور اور خوشحال زندگی انسان گذار نے لگے اور یہ دنیا بھی جنت بن جائے۔یہ ذمہ داری اے میرے پیارے بچو! اور جوانو! اور بڑو! اور مردو! اور عور تو ! تم پر ہے۔تم اسے نہ بھولو۔یہ دنیا تو عارضی اور چند روزہ ہے۔ہر ایک نے یہاں سے جانا ہے لیکن اس چیز کا خیال رکھو اور اس کے لئے کوشش کرو کہ جب ہم اس دنیا سے نکلیں اور دوسری دنیا میں داخل ہوں تو وہاں خدا تعالیٰ کے فرشتے خدا کی ساری ہی صلاحیتوں کے ساتھ ہمارے استقبال کیلئے کھڑے ہوں۔اھم آمین۔(ماہنامہ خالد نومبر دسمبر ۱۹۷۹ء)