مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 520 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 520

فرموده ۱۹۷۹ء 520 د دمشعل نعل راه جلد دوم ہوتا تو کائنات بھی نہ بنائی جاتی۔اور ساتھ یہ اعلان بھی کروا دیا اللہ نے قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرُ مِثْلُكُمْ اور عجیب اس کا اثر انسانی دماغ پر پڑتا ہے۔قرآن کریم کی آیات کا اتنا عظیم اثر ہوتا ہے غیر مسلموں پر کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔اب یہی قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ کو لو ٹا چی من غانا میں ایک قصبہ ہے وہاں ہمارا جلسہ تھا نانا کا سب سے بڑا عیسائی پادری وہاں آیا ہوا تھا یہ دیکھنے کیلئے کہ کیا منصوبے سکیمیں اسلام کو پھیلانے کیلئے بنارہے ہیں۔لیکن بیٹھا اس طرح ہوا تھا کہ بڑا پادری ہوں میں۔لات پہ لات رکھ کے اور بالکل Indifferente کوئی دلچسپی نہیں ہے مجھے۔ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کر رہا تھا تقریر کرتے ہوئے میں نے کہا دیکھو جو Paramount Prophet پیرا ماؤنٹ پرافٹ تھا۔یعنی سب سے بڑا پرافٹ Prophet محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے منہ سے خدا تعالیٰ نے یہ اعلان کروا يا قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمُ اعلان کر دو سب کو تم بھی اس کے مخاطب ہو کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔یہ شرف انسانی ہے میں نے کہا Those who are Junior to him like moses and christ اور ان کے ماننے والے، انگریزی میں تقریر تھی۔میں نے کہا کہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نچلے درجے پر پیغمبر ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوئے یا حضرت عیسی علیہ السلام ہوئے یا ان کے ماننے والے جو ہیں ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اپنی برتری کا دعویٰ کریں تم پر۔میں تو تقریر کر رہا تھا مجھے بتانے والوں نے بتایا کہ وہ لاٹ پادری صاحب اس طرح اچھلے کہ جس طرح کسی نے ان کو سوئی چبھودی ہو کہ یہ کیا اعلان کر دیا انہوں نے کیونکہ وہاں تو وہ لاٹ بن کے رہتے تھے۔شرف انسانی کو اسلام نے قائم کیا بات یہ ہے کہ شرف انسانی کو جس طرح اور جس رنگ میں اسلام نے قائم کیا ہے کسی اور مذہب نے کسی اور نبی نے قائم نہیں کیا۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کیا ہے۔اور آپ دوستوں نے یہ بات عملاً اور قولاً اور خدمۂ یعنی خدمت کے ذریعہ سے اور حقوق ادا کر کے اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت کر کے جہاں تک تمہاری طاقت میں ہو یہ ثابت کرنا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے واقعہ میں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ساری مخلوقات میں سب سے زیادہ عزت واحترام والا یہی تو ہے جس سے خدا پیار کرتا اور دوسری زندگی دے دی۔اس کی روح کو قائم رکھا اور اس دنیا میں بھی ہمکلام ہو گیا انسان سے اور یہ دروازہ کسی پہ بند نہیں جو خدا سے پیار کرنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جس نے بھی خلوص سے کھٹکھٹایا اس کے لئے یہ کھولا گیا۔پچھلے سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسر صلیب کی جو کا نفرنس ہوئی تھی اس میں ان سب غیر مسلموں کو مخاطب کر کے میں نے کہا تھا کہ تم کدھر پھر رہے ہو کس بھول میں ہو۔یہ دروازہ تو ہر کھٹکھٹانے والے کے لئے کھولا جاتا ہے آگے بڑھو آزما کے تو دیکھو۔خدا کے در کا دروازہ کھٹکھٹاؤ۔وہ کھولے گا۔تم کہاں مسیح کی صلیب اٹھائے پھرتے ہو جس خدا کے بندے نے اٹھائی تھی اٹھالی۔اس نے ایک قربانی دے دی خدا کے لئے اور صلیب پر چڑھ گیا اور خدا نے اپنے پیار کا اظہار کیا اور صلیب سے زندہ اتار لیا اس کو۔اس نے قربانی دینے میں کوئی دریغ نہیں کیا۔خدا