مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 513
513 فرموده ۱۹۷۹ ء د و مشعل راه جلد دوم دد حقوق کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں۔( تمہید کے بعد اب میں اصل مضمون کی طرف آرہا ہوں ) کہ تین پہلو سے ہم حقوق انسانی کو دیکھ سکتے ہیں ایک وہ حقوق ہیں جو ہر فرد واحد کو اپنے نفس کیلئے ادا کرنے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَق یاد رکھو کہ تمہارے نفوس کے بھی تمہارے نفوس پر کچھ حقوق ہیں۔موٹی مثال جو آسانی سے انسان سمجھ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام میں رہبانیت جائز نہیں۔نہ اس قسم کا فقر جیسے غیر مذاہب کے فقیر جنگلوں میں جا کے دنیا کی ان نعمتوں سے خود کو محروم کر لیتے ہیں جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے پیدا کی تھیں۔اس قسم کا فقر جو ہے اس کی اجازت انسان کو نہیں دی گئی۔وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ اس کے آگے دو پہلو ہیں۔ایک یہ کہ جو تیرے نفس کا حق ہے اور تو ادا کر سکتا ہے اسے ادا کرنا فرض ہے اور دوسرے یہ کہ جو تیرا حق نہیں ہے وہ اپنے نفس کو نہ دے کہ خدا تعالیٰ ناراض ہو کر سزادینے کیلئے تیار ہو جائے۔ایک پہلو یہ ہے حقوق کا۔حقوق کے متعلق اسلامی تعلیم ایک پہلو یہ ہے کہ جو ہر انسان نے دوسرے انسان کے مثلاً زید کے حقوق ادا کرنے ہیں۔مادی دنیا کو اگر ہم دیکھیں تو دنیا میں اس کا ئنات میں جو چیز بھی پیدا کی گئی ہے وہ نوع انسانی کا مشترکہ ورثہ ہے کسی ایک شخص یا کسی ایک ملک یا کسی ایک گروہ کیلئے اللہ تعالیٰ نے اس ساری کائنات کو پیدا نہیں کیا بلکہ نوع انسانی کا مشترکہ ورثہ ہے یہ۔اور ہر شخص کے ذمے یہ فرض عائد کیا گیا ہے اسلام میں کہ وہ دیکھے کہ دنیا کے کسی انسان کے کوئی حقوق تلف تو نہیں ہورہے۔تو ایک پہلو حقوق سے تعلق رکھنے والا حقوق کے حصول کے ساتھ ہے حق لینے کے ساتھ۔حق لینے میں بہت کی پابندیاں لگائیں۔اُخروی نعماء کے حصول کیلئے بہت سی ایسی تعلیمیں ہمیں نظر آتی ہیں کہ اگر تھوڑ احق اپنا اس دنیا میں چھوڑ دو گے تو بہت زیادہ تمہیں اللہ تعالیٰ جزاء دوسری دنیا میں دے دے گا۔مثلاً اگر کسی شخص نے اس کی کوئی حق تلفی کی ہے تو اسلامی تعلیم میں دو حق بنتے ہیں اس شخص کے جس کی حق تلفی ہوئی۔ایک یہ کہ وہ اپنی حق تلفی کا بدلہ لے۔مثلاً اگر ایک شخص نے دوسرے کے سوروپے مار لئے تو جس کے وہ سوروپے تھے اس کا اسلام نے حق قائم کیا کہ وہ اپنے سوروپے وصول کرے ایک یہ۔دوسرا اسلام نے یہ کہا کہ ایک اس سے بھی بہتر سودا تمہیں بتاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اگر تم یہ سمجھو کہ حق تلف کرنے والے کو اگر تم نے سوروپیہ معاف کر دیا تو اس کی اصلاح ہو جائے گی اور بہت سارے لوگوں کی حق تلفی کی جو اس نے ایک عادت ڈالی ہوتی ہے اس سے وہ چھٹکارا حاصل کر لے گا اور وہ جو خدا سے دور جارہا ہے دور نہیں جائے گا۔بلکہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لے گا۔فمن عفا واصلح اگر اصلاح کی صورت ہے تو اس کو معاف کر دو۔تو یہ دو صورتیں اس حکم میں پائی جاتی ہیں۔پس ایک تو یہ صورت ہے اپنے نفس کے حقوق ادا کرنے کی۔دوسری صورت جو اپنے حقوق حاصل کرنے کی ہے اس میں آگے دو شکلیں بنتی ہیں۔حقوق حاصل کرنے والے دو جماعتوں میں بٹ جاتے ہیں ایک کو قرآنی اصطلاح میں سائل کہا گیا ہے اور دوسرے کو محروم کہا گیا ہے۔