مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 514 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 514

د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۹ء 514 یعنی (۱) اگر وہ اپنا حق تلف ہوتا دیکھے تو مطالبہ کرے کہ میرے حقوق کیوں تلف ہو رہے ہیں مجھے دو میرے حقوق۔قرآن کریم کی اصطلاح میں یہ سائلین کی جماعت ہے۔اور یا (۲) وہ بعض فتنوں سے معاشرے کو بچانے کی خاطر خاموشی اختیار کرے یا خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کیلئے خاموشی اختیار کرے تو ایسے لوگ قرآنی اصطلاح میں ”محروم کی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں یعنی اپنے حق کے لئے شور نہیں مچاتے۔کہتے ہیں ہم خاموشی اختیار کر لیتے ہیں تاکہ نوع انسانی کا کوئی گروہ یا اس زمین کا کوئی خطہ کسی قسم کے فتنہ وفساد میں نہ پڑ جائے۔اس وقت میں ان دونوں میں سے کسی ایک کے متعلق تفصیل سے بات نہیں کرنا چاہتا۔یعنی حقوق نفس کی ادائیگی وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَق کی تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا اور جو حق لینے کا سوال ہے اس کے متعلق بھی میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ایک تیسرا پہلو ہے ”حق“ کا۔اور وہ ہے حق ادا کرنا۔اس وقت اس کے متعلق میں کہنا چاہتا ہوں۔ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ ہر شخص کے حقوق کی ادائیگی کرے خلوص نیت کے ساتھ، بیدار اور چوکس رہ کر۔اور اس کی لمبی تفصیل ہے۔موٹی موٹی باتیں میں پہلے بتا دوں۔ایک یہ ہے کہ مال کے لحاظ سے جو دوسروں کے حقوق ہیں وہ ان کو دئیے جائیں خواہ وہ وَفِی اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوم۔(الذاريات: ۲۰) سائل کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ہوں۔ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ دیکھے کہ کسی کی دنیا میں حق تلفی تو نہیں ہو رہی۔اور اگر اسے نظر آ رہی ہو تو جہاں تک اس کے اختیار میں ہو پیار کے ساتھ اور معاشرے کی فضا کو منتشر اور پراگندہ کئے بغیر اور فساد پیدا کئے بغیر اس کو حق دلانے کی کوشش کرے۔اور اگر خود اس کے ذمے حق ہو تو دینے کی کوشش کرے۔مالی لحاظ سے کوئی شخص ایسا اس دنیا میں نہیں ہونا چاہئے کہ جو اس کا حق ہے وہ اسے نہ ملے۔اور یہاں میں وضاحت کر دوں پہلے بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ قرآن کریم کی تعلیم سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ ہر فرد واحد کا یہ حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو قو تیں اور استعداد میں جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی طور پر کسی کو دی ہیں ان کی نشو ونما کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ اسے ملنی چاہئے۔یہ اس کا حق ہے اور جب نشو و نما اپنے کمال تک پہنچ جائے تو اس کمال پر اس قوت اور استعداد کو قائم رکھنے کیلئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ اسے ملے۔ہر شخص دنیا کا صحت مند جسم رکھتا ہو۔ہر ذہین بچہ زیادہ سے زیادہ تعلیم جو وہ حاصل کر سکتا ہے حاصل کرے۔اور ہر ذہین بچہ جب اپنی تعلیم سے فراغت حاصل کرے تو اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء:۵۹) کے مطابق اہلیت کے مطابق اس کی تقرری ہو۔اور اعتقاد کا تعصب یا علاقائی تعصب یا ملکی تعصب یا خاندانی تعصب یا قومی تعصب اس حق کی ادائیگی میں روک نہ بنے۔اخلاقی لحاظ سے ہر فرد کا اور مجموعی طور پر قصبوں میں رہنے والے گاؤں اور شہروں میں رہنے والے ڈسٹرکٹس یا علاقوں میں رہنے والے ملکوں میں رہنے والے دنیا میں رہنے والوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسا معاشرہ قائم کریں کہ جس میں گندگی پنپ ہی نہ سکے۔اور یہ معاشرے کا دباؤ ہے کہ (ایک مثال دے دوں ) جلسہ سالانہ کے موقعہ پر