مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 502
دد فرموده ۱۹۷۸ء 502 مشعل راه جلد دوم اعلان کیا قرآن کریم نے۔ہمارا خدا ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس کے رنگ میں رنگین ہو کر جس طرح اس نے اپنی مخلوق کی بھلائی کے لئے بے شمار چیزیں پیدا کر دیں اسی طرح تم اس کی مخلوق کی بھلائی کے لئے اپنی زندگی کا ہر لحظہ وقف رکھو اور کسی کو دکھ نہ پہنچا ؤ اور بنی نوع انسان کے ہمدرد اور غمخوار بنو۔ہمارا خدا ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ شرک بالکل نہیں کرنا قبر پرستی بالکل نہیں کرنی انسانوں کو خدا بالکل نہیں بنانا۔سارے انسانوں کو ایک مقام پر لا کے کھڑا کر دیا۔اس لعنت سے محفوظ کرنے کے لئے قبر پرستی نہ کہیں آجائے امت مسلمہ میں۔نبی کریم ﷺ نے جہاں یہ فرمایا کہ جعلت لى الارض مسجداً ساری کی ساری زمین میرے لئے مسجد بنائی گئی ہے وہاں یہ بھی فرمایا کہ دو جگہیں ہیں جہاں تم نے خدا تعالیٰ کی عبادت نہیں کرنی۔خدائے واحد و یگانہ کی عبادت بھی دو جگہ نہیں کرنی۔ایک لٹرین میں جہاں تم گند کرتے ہو اور دوسرے قبرستان میں۔ان جگہوں میں خدا کی عبادت بھی نہیں کرنی تا کہ شرک کے خیالات و ساؤس سے تمہیں محفوظ رکھا جائے اور کوئی دوسرا بدظنی کرتے ہوئے تمہیں مشرک نہ سمجھنے لگ جائے۔بدھی کے مواقع سے دوسروں کو بھی بچالیا۔ہمارا خدا عظیم خدا ہے۔دعاؤں کو وہ قبول کرتا ہے۔وہ پیار کرتا ہے۔اگر اس کے پیار کے حصول کے جو طریق اسی کے بتائے ہوئے ہیں ان کے اوپر ہم چلیں۔اور اس دنیا میں پیار کے جو صحیح تقاضے سمجھے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ اسی طرح پیار کا اظہار کرتا ہے۔مثلاً جب ایک انسان دوسرے سے پیار کرے اور چاہے کہ وہ دوسری ہستی مجھ سے بھی پیار کرے۔مجھ سے ہمکلام ہو۔مجھ سے باتیں کرے۔قرآن کریم نے یہ درواز ے محمد عے کے طفیل امت مسلمہ کے لئے کھلے رکھے ہیں۔دوست خدا بنتا ہے پیار کرتا ہے اور یہ تو مہربانی ہے خدا کی اپنے عاجز بندوں سے وہ پیار کرتا ہے اور اس سے دوستانہ سلوک روا رکھتا ہے اور اس مہربانی کے نتیجہ میں وہ ان کی مدد کو آتا ہے ان کی نصرت کرتا ہے وہ ان کے دکھوں کو دور کرتا ہے وہ ان کو جب آزماتا ہے تو ان کی شان کو بلند کرنے کے لئے وہ آزمائش ہوتی ہے جب وہ امتحان میں پاس ہوتے ہیں تو ان کو اس قدر انعام ملتا ہے کہ دنیا کا دماغ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔تو ہر لحاظ سے وہ اپنے پیار کا اظہار کرتا ہے وہ کہتا ہے میں تمہارے ساتھ ہوں اس واسطے کسی سے تم نے گھبرانا نہیں کسی کی طرف تم نے ہاتھ نہیں بڑھانا۔مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا۔وہ کہتا ہے کہ جب میں تمہیں آزماؤں تو گلے شکوے نہیں کرنے۔میں نے تمہارا امتحان لینا ہے کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ تم مجھ سے پیار کرتے ہو اس دعوئی میں تم سچے ہو یا نہیں۔تو پہلا سبق اے میرے عزیز بچھو ہمیں قرآن کریم نے محمد علی نے یہ دیا جو آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے دہرایا اور تاکید کی اس بات کی کہ اس سبق کو بھی اپنی زندگی کے ایک لحظہ کے لئے بھی بھولنا مت وہ یہ ہے کہ خدائے واحد ویگانہ پر ویسا ایمان رکھو جیسا ایمان قرآن عظیم کی شریعت ہمیں کہتی ہے کہ رکھو۔قرآن کریم نے کھول کے بیان کیا۔آپ کے اسباق کے اندر ممکن ہے تفاصیل آئیں اس کی ممکن ہے نہ آئیں۔بعض باتیں میں نے بیان کر دی بعض آپ سیکھتے رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتب