مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 501 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 501

501 فرموده ۱۹۷۸ء د و مشعل راه جلد دوم دد (Metabolison ایک دنیا ہے ایک کارخانہ ہے جو پانی کو کنٹرول کر رہا ہے۔ہمارے جسم میں شکر ہے۔شکر جو ہے وہ جسم کے لئے ضروری حصہ ہے۔ہمارے جسم میں ایک کارخانہ ایسا لگا ہوا کہ جو کہ Starch کو کاربو ہائیڈریٹس کو شکر میں بیٹھے میں تبدیل کرتا ہے اور پھر اس سے وہ جسمانی طاقت کے سامان پیدا کرتا ہے۔بہت بڑا کارخانہ ہے اور ایسے شعبے ہیں اس کارخانے میں کہ جس دن آپ (ایک صحت مند انسان ) دو چھٹانک میٹھا کھا ئیں تو جسم میں وہ شعبہ جو ہے وہ دو چھٹانک میٹھا ہضم کرنے کے سامان پیدا کرتا ہے۔ایسے کیمیاوی اجزاء پیدا کرتا ہے کہ دو چھٹانک میٹھا ہضم ہو جاتا ہے۔اور اگر کسی دن کوئی شخص نالائتی کرے اور دوست کے ہاں گیا ہے اور گرمی کے دن ہیں اور اس کے دوست نے آئس کریم بنائی ہے اور وہ لذیذ ہے بہت۔وہ دوست کے ہاں بیٹھ کے دو آئس کریم کھا جاتا ہے۔یا زردہ یا فرنی زیادہ کھا جائے یا شربت پی جائے گرمی میں بہت زیادہ تو یہ جو شعبہ ہے یہ اسی کے مطابق کیمیائی اجزاء پیدا کر دیتا ہے اور انسان بیمار نہیں ہوتا بلکہ ایک دن میں اس شعبہ نے دو چھٹانک میٹھے کو ہضم کرنے کا انتظام کیا جو (Sugar Metabolism کا ایک حصہ ہے ) اور دوسرے دن اس نے آدھ سیر میٹھا ہضم کرنے کا سامان پیدا کر دیا۔اسی طرح ہم پروٹین۔لحمیات کھاتے ہیں اور اس کی بہت سی قسمیں ہیں اور بہت سے Enzyme ہیں جو مختلف قسم کی لحمیات اور معدنیات کو ہضم کر رہے ہیں۔یعنی جتنا اندر اور گہرے چلے جاؤ ایک کے بعد دوسری چیز ہمیں نظر آتی ہے۔اتنا بڑا نظام کہ ساری دنیا ایک طرف اور ایک انسان کے جسم کا نظام اس کے مقابلہ میں دوسری طرف۔اور یہ سارا آزاد نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کام کر رہا ہے۔آزادی انسان کو صرف اس دائرہ کے اندر دی گئی ہے کہ جس دائرہ میں جو اعمال کئے جاتے ہیں ان کے اوپر جزاء یا سزا کا سوال پیدا ہوتا ہے۔کہ خدا تعالیٰ اس کے بدلے میں نعماء نازل کرے گا یا اس کے بدلے میں خدا تعالیٰ کی قہری تجلی نازل ہوگی۔ایک بد بخت انسان پر۔اور وہ بھی خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہے۔اگر وہ نہ چاہتا تو کوئی انسان زبر دستی آزادی خدا عز وجل سے چھین نہیں سکتا تھا۔جزاء کا نظام اس نے روحانی زندگی میں مقرر کیا لیکن کہا ایک محدود زندگی گزارنے والے انسان نے سوچا کہ میں اپنی عمر میں ۳۰ سال ۵۰ سال ۸۰ سال ۱۰۰ سال میں کتنی نیکیاں کرلوں گا کہ وہ مجھے ابدی جنت کا مستحق بنا دیں۔اس نے سوچا میں اتنی نیکیاں تو نہیں کر سکتا۔خدا نے کہا۔گھبراؤ نہیں تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔( قرآن کریم میں کھل کے یہ بات بیان ہوئی ہے لیکن ابدی جنت کے پھر بھی تم وارث نہیں ہو سکتے اس لئے میں اس سے بڑھ کے اور بھی دوں گا۔تا کہ تم ابدی جنتوں کے وارث ہو سکو۔کسی کو کھنہ پہنچا ؤ اور بنی نوع انسان کے ہمدرد اور غمخوار بنو ہمارا خدا جو ہے وہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اسی پر پورا بھروسہ اور کامل تو کل رکھیں ہمارا خدا ہم سے مطالبہ یہ کرتا ہے کہ ہم کسی کی خشیت اپنے دل میں پیدانہ کریں سوائے اس کے فلا تخشو هم واخشونی (البقرہ:۱۵۱) کا