مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 500
مشعل راه جلد دوم توحید حقیقی فرموده ۱۹۷۸ء 500 ایک بنیادی سبق ہے تو حید حقیقی کا خالص تو حید کا۔محمد رسول اللہ اللہ نے جو قرآن عظیم انسان کے ہاتھ میں دیا اس قرآن میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو سمجھنے کی راہیں کھولیں اس کی معرفت اس کا عرفان حاصل کرنے کے جو طریقے ہیں وہ بتائے۔خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق بھی ہمیں بہت کچھ بتایا گیا اور اس کی صفات کے متعلق بھی ہمیں بہت کچھ بتایا گیا قرآن عظیم میں اور ہمارے جو اپنے رب کریم سے تعلقات ہونے چاہئیں ان کے متعلق بھی بہت کچھ بتایا گیا اور ہمیں کہا گیا کہ اللہ عظیم ہستی ہے لیکن وہ اپنے بندوں سے پیار کرنا چاہتا ہے۔وہ جو سر چشمہ حیات ہے ہمیشہ زندہ رہنے والا اور زندہ رکھنے والا وہ یہ چاہتا ہے کہ ایک زندہ تعلق اس کے بندوں کا اس کے ساتھ ہو جائے۔ہمیں قرآن عظیم بتا تا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں بھی واحد لاشریک ہے اور بے مثل و مانند ہے نہ اس کی صفات کسی اور میں صحیح معنی میں عظمت و جلال کے ساتھ پائی جاتی ہیں۔یہ تو صحیح ہے کہ خود اسی نے یہ منصوبہ بنایا نوع انسان کو پیدا کر کے کہ انسان بحیثیت نوع کے اس کی صفات کے مظہر بنیں اور ہر فرد واحد انسانوں میں سے اپنی اپنی قوت اور طاقت اور صلاحیت اور استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنی صفات پر چڑھائے۔لیکن یہ رنگ جو انسان اپنی صفات پر چڑھاتا ہے اس سے انسان خدا نہیں بن جاتا خدا تعالیٰ کی روشنی کا خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بنتا ہے۔اس کے متعلق شاید چند فقرے میں بعد میں بھی کہوں۔اس کی وضاحت کرنے کے لئے۔بہر حال ہمارا خدا جس پر ہم ایمان لائے وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے کوئی ایسی صفت جواللہ میں ہنی چاہیے نہیں کہ اس میں نہ ہو۔ہر صفت حسنہ اس میں پائی جاتی ہے اور ہر قسم کے عیب اور نقص اور کمزوری سے وہ پاک ہے اسی واسطے ہم اس کی تسبیح کرتے اور کس قدوسیت کا اعلان کرتے ہیں۔ہر شے کے کرنے پر وہ قادر ہے۔جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے کر سکتا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اگر اللہ اسے کرنا چاہے۔اسے روک نہیں سکتی۔اور دنیا کا کوئی منصوبہ اگر اللہ نہ کرنا چاہے اس سے کوئی کروا نہیں سکتا۔حکم اسی کا چلتا ہے۔بادشاہت اسی کی ہے۔انسان کو اسی نے آزادی دی۔اپنے دائرہ کے اندر لیکن ہر انسان کا وجود نوے فی صد سے بھی زیادہ اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لحاظ سے آزاد نہیں بلکہ اس کے حکم کا تابع ہے۔دل کی حرکت ہے۔آپ اپنی مرضی سے دل کی حرکت میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔قانون الہی آپ کے دلوں کی حرکت پر متصرف یہ جولوتھڑا ہمارے سینے کے اندر دل کہلاتا ہے اور حرکت کرتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے قانون کے تابع ہے اس میں انسان آزاد نہیں ہے۔پھر دوران خون ہے۔بے شمار نظام جسمانی ہیں۔کہنے والوں نے یہ کہا اور سوچنے والوں نے اسے صحیح سمجھا کہ ایک انسان کا وجود بھی سارے جہانوں کی طرح بہت عظیم بڑی وسعتوں والا ہے۔ایک نظام کے بعد دوسرا نظام انسان کے علم میں آیا۔جسم میں پانی کا نظام۔ہم پانی پیتے ہیں۔پانی پر ہماری زندگی کا بہت حد تک مدار ہے۔پانی ہمارے جسم کے مختلف حصوں میں جاتا ہے۔پانی مختلف حصوں سے نکل کے خارج ہوتا ہے ہمارے جسم سے اس کو کہتے ہیں نظام Water)