مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 496
فرموده ۱۹۷۸ء 496 د دمشعل را شعل راه جلد دوم یہ مضمون بہت وسیع ہے میں نے اسے مختصر کرنے کی کوشش کی ہے۔قرآن کریم اپنی عظیم کتاب ہے کہ اس میں انسان کی تمام ضروریات کا حل موجود ہے علمی لحاظ سے بھی اور عمل کر کے فائدہ اٹھانے کے لحاظ سے بھی۔قرآن کریم کی تعلیم پر عمل پیرا ہو کر محمد ﷺ نے اپنا جو فیضان جاری کیا ہے اس کے نتیجہ میں انسان خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لیتا ہے۔پھر دنیوی لحاظ سے میں نے خدا تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے دنیا کے چوٹی کے دانشوروں میں سے بعض کے ساتھ باتیں کی ہیں اور ہر ایک کو اس بات کا قائل کیا ہے کہ تمہارے علم کے متعلق بھی قرآن کریم ہمیں بنیادی حقیقت بتاتا ہے جسے بعض دفعہ تم خود بھول جاتے ہو۔مثلاً کیمسٹری (کیمیا) کا علم ہے۔میں اس مضمون کا گریجوایٹ نہیں۔نہ میں نے سکول میں کیمسٹری پڑھی ہے اور نہ کالج میں لیکن ابھی پچھلے دنوں ایک احمدی طالب علم سے میری ملاقات ہوئی جو کیمسٹری میں پی۔ایچ۔ڈی کر رہا ہے اُس کو میں نے کیمیا کے متعلق بتا نا شروع کیا اور جب یہ کہا کہ میں نے کیمیا کے متعلق قرآن کریم سے سیکھا ہے تو وہ حیران ہو کر میرا منہ دیکھنے لگا کیونکہ وہ حقیقت جو مختلف علوم کے اساتذہ کو معلوم نہیں وہ قرآن کریم ہمیں سکھاتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم بڑی عظیم کتاب ہے اور بڑی برکتوں والی کتاب ہے۔احباب جماعت کو چاہیئے کہ وہ اس پر غور کیا کریں اور دعائیں کیا کریں کیونکہ جب خدا تعالیٰ ہمیں دنیا کا ہادی بنانا چاہتا ہے تو ہماری لئے یہ از بس ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں قرآن کریم کی ہدایت اور روشنی اور نور بھی عطا فرمائے۔اس کے بغیر تو جماعت احمد یہ دنیا کو ہدایت نہیں دے سکتی۔پس جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس کی کوئی آیت یا آیت کا کوئی ٹکڑا منسوخ نہیں ہوسکتا۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس کا کوئی لفظ منسوخ نہیں ہوسکتا۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس کے کسی لفظ کا کوئی حرف منسوخ نہیں ہوسکتا۔ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی کوئی زیرز بر اور پیش بدلی نہیں جاسکتی اور قرآن کریم کی تعلیم میں کسی قسم کا تغیر اور تبدل نہیں کیا جا سکتا۔بعض نادان لوگ یہ کہہ دیا کرتے ہیں چودہ سو سال پہلے کی کتاب ہے آج کے مسائل کو کیسے حل کرے گی۔خود میرے سامنے ہر قسم کے لوگ بات کرتے ہیں چودہ سو سال پہلے نازل ہونے والی کتاب آج کے زمانہ کے مسائل کو بھلا کیسے حل کر سکتی ہے۔میں ایسے لوگوں سے کہا کرتا ہوں کہ چودہ سو سال پہلے جس خدا نے اس کتاب کو نازل کیا تھا وہ آج کے مسائل بھی جانتا تھا اس لئے یہ آج کے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔اور کیسے حل کرے گی یہ تو ایک فلسفہ ہے۔رہی حقیقت تو تم کوئی مسئلہ پیش کرو میں اسے قرآن کریم سے حل کر کے بتا دیتا ہوں کیونکہ اس کے اندر علوم کے ع دریا بہہ رہے ہیں۔عظ پس یہ ہمارا ایمان ہے کہ قرآن کریم بڑی عظمتوں والی کتاب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں سات سو کے قریب احکام پائے جاتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک تمہارے ساتھ بحث کرے گا مرنے کے بعد کہ تم نے مجھ پر عمل کیا تھا یا نہیں۔گویا ہم سارے قرآن کریم پر عمل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔یہ نہیں