مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 488 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 488

و «مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۸ء 488 لیکن خدا ایسا نہیں خدا تعالیٰ کے کام عجیب شان اپنے اندر رکھتے ہیں اُس کی صفت کا ہر جلوہ کل یوم ھو فی شان کا مظہر ہوتا ہے۔میں نے شاید پہلے بھی بتایا تھا اب پھر بتا دیتا ہوں ہمارا ایک بڑا ذہین بچہ تھا۔اس کو میں نے یہی مسئلہ سمجھایا اور بتایا کہ قرآن کریم کی رُو سے اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کا ہر جلوہ ایک نئی شان کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔وہ ایٹم کے بارہ میں مزید ریسرچ کرنے کے لئے حکومت مغربی جرمنی کے وظیفے پر جرمنی گیا تو وہاں اس نے اپنے پروفیسروں سے کہا کہ وہ اس موضوع پر ریسرچ کرنا چاہتا ہے کہ تابکاری کا اثر گیہوں پر اور قسم کا ہے، مکئی پر اور قسم کا ہے اور چاول پر اور قسم کا۔اُس کے پروفیسر اُسے کہنے لگے کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ ہمارے دماغ میں تو کبھی یہ بات نہیں آئی تمہارے دماغ میں کیسے آگئی۔اُس نے بعد میں مجھے بتایا کہ آپ نے کل یوم ھو فی شان کے بارہ میں بتایا تھا۔اس کے مطابق میں نے اپنے پروفیسروں سے باتیں کیں۔بڑی مشکل سے اس موضوع پر ریسرچ کرنے کے لئے اجازت ملی اور جب ریسرچ کی تو یہی نتیجہ نکلا کہ اٹامک انرجی کا اثر گیہوں پر اور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور چاول پر اور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔چنانچہ اُس کی اس ریسرچ پر اس کے جرمن پروفیسر بڑے حیران ہوئے۔یہ تو قرآن کریم کی تعلیم کی برکت تھی میں تو ایک واسطہ بن گیا قرآن کریم کی تعلیم سکھانے کا اللہ تعالیٰ کے فضل غرض اللہ وہ کامل صفتوں کا مالک خدا ہے جس پر ہم احمدی ایمان لاتے ہیں اور کوئی چیز اس کے سامنے آن ہونی نہیں۔ایک دفعہ مجھے ایک دوست کا دعا کے لئے خط ملا جس میں اُس نے اپنے حالات کچھ اس طرح بیان کئے ہوئے تھے کہ بظاہر یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ اس کا کام ہو جائے گا لیکن اس نے لکھا کہ دعا سے دل تسلی پکڑتا ہے۔اس لئے میں آپ کو دعا کے لئے رکھ رہا ہوں۔میں نے اُس کا خط پڑھا اور قریب تھا کہ میں یہ لکھ دیتا کہ پھر خدا کی رضا پر راضی رہو اُس وقت خدا تعالیٰ نے اپنے پیار سے مجھے جھنجھوڑا اور مجھے یہ کہا کیا تم احمدیوں کو یہ سبق دینا چاہتے ہو کہ انسان کی زندگی میں کوئی ایسا موقع بھی آتا ہے جب خدا تعالیٰ بھی اُس کی مدد نہیں کر سکتا۔چنانچہ میں کانپ اُٹھا کہ یہ میں کیا غلطی کرنے لگا تھا اور میں نے اپنے ہاتھ سے لکھا خدا تعالیٰ سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔چنانچہ جس بات کی ہزار میں سے ایک کی بھی امید نہ تھی دس پندرہ دن کے بعد اُس کا خط آیا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا کام ہو گیا ہے۔۷۴ء کا ابتلاء ۷۴ء میں جماعت احمدیہ نے بڑی تکلیف کے دن گزارے۔ساری جماعت کا درد مجھے بھی اٹھا نا پڑتا ہے۔جماعت میں سے جس دوست کو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ تو اس کے لئے بڑے دکھ درد کا موجب ہوتی ہی ہے لیکن میں بھی اپنی جگہ بڑی پریشانی میں وقت گزارتا ہوں چنانچہ ۷۴ء میں بھی بڑی پریشانی رہی۔بڑی دعائیں کیں۔