مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 486
دو فرموده ۱۹۷۸ء 486 مشعل راه جلد دوم ہے۔ہمارا خدا قیوم خدا ہے۔کائنات کے ہر حصہ کے ساتھ اس کا ذاتی تعلق قائم ہے یعنی یہ کائنات اور اس کی ہر شے ہر آن اور لحظہ اسی سے زندہ اور اسی کے سہارے قائم ہے۔وہ بصیر ہے ہر چیز کو دیکھتا ہے مگر انسانوں کی طرح نہیں دیکھتا۔میرا اور آپ کا دیکھنا دو چیزوں کا محتاج ہے۔ایک تو ہم اپنی آنکھوں کے محتاج ہیں جو خدا نے ہمیں دی ہیں دوسرے بیرونی روشنی کے محتاج ہیں۔آنکھوں والے ہوتے ہوئے بھی اگر رات کے وقت ہم مکان کی ساری کھڑکیاں اور دروازے بند کر لیں، کوئی در زباقی نہ رہے اور روشنی کی کوئی شعاع کمرے میں نہ آئے تو ہماری آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں۔آنکھیں ہیں مگر دیکھ نہیں سکتیں لیکن خدا تعالی دیکھتا ہے۔بایں ہمہ نہ ظاہری آنکھ کا وہ محتاج ہے اور نہ بیرونی روشنی کا۔وہ اپنی ذات میں دیکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔پھر شنوائی ہے۔انسان اور دوسرے حیوانات بھی سنتے ہیں۔مخلوق میں سے جو بھی سنتا ہے اسے ظاہری طور پر دو چیزوں کی ضرورت ہے ایک کانوں کی ضرورت ہے اور دوسرے صوتی لہروں کی ضرورت ہے۔اگر کان ہوں لیکن صوتی لہر نہ ہو یا کان تک نہ پہنچ سکے یا کان کو بند کر دیا جائے اور آواز اس کے اندر نہ جا سکے تو کان کسی آواز کو سن نہیں سکے گا۔کان ہیں لیکن جب ان کا تعلق صوتی لہر سے قطع کر دیا جائے تو وہ سننا بند کر دیتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ نہ کان کا محتاج ہے نہ صوتی لہروں کا وہ کسی مادی کان سے سنتا نہیں نہ ہی اسے سننے کے لئے صوتی لہروں کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ ہے ایک چیز کو جانتا ہے۔اس کے ظاہر کو بھی جانتا ہے اور اس کے باطن کو بھی جانتا ہے۔دنیا کی کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔دنیا کی کسی چیز کا ظاہر اور باطن اس سے پوشیدہ نہیں مثلاً ہمارا اپنا جسم ہے یہ بھی ایک عالمین ہی ہے۔خدا تعالیٰ نے اسے بڑا عجیب کارخانہ بنا دیا ہے۔جسم میں پانی کا اپنا ایک نظام ہے مٹھاس کا اپنا ایک نظام ہے۔ہزار ہا مختلف نظام ہیں جو جسم کے اندر پائے جاتے ہیں بلکہ ان میں با ہمی ربط کا نظام قائم ہے ہم خود اپنے جسم کے غیر متناہی پہلوؤں کا علم نہیں رکھتے مگر خدا تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔خدا تعالیٰ ہر ایک چیز کو جانتا ہے ہر ایک چیز اس کے علم میں ہے اور وہ متصرف بالا رادہ ہے جب چاہے اور جو چاہے کر دیتا ہے۔حضرت صحیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ انسان جب اپنی نالائقی کی وجہ سے بیمار ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اسے شفاء حاصل ہوتب خدا تعالیٰ کے دو حکم اُس کے متعلق جاری ہوتے ہیں۔اس کے جسم کے ذرات پر خدا تعالیٰ کا یہ حکم نازل ہوتا ہے کہ وہ کسی دوا کا اثر قبول نہ کریں چنانچہ وہ کسی دوا کا اثر قبول نہیں کرتے۔دوسرے ہر دوا پر خدا کا حکم نازل ہوتا ہے کہ وہ شخص مذکور پر کوئی اثر نہ کرے چنانچہ وہ دوا استعمال کرتا ہے لیکن دوا بے اثر ثابت ہوتی ہے۔پھر خدا تعالیٰ اس مریض کی دعاؤں کو سن کر یا کسی اور نیک بندے کی اس (مریض) کے حق میں دعا سن کر اسے شفا دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو دو نئے حکم نازل کرتا ہے ایک انسانی جسم کے ذرات کو حکم ہوتا ہے کہ وہ دوا کے اثرات کو قبول کریں اور دوا کو حکم دیتا ہے کہ اس شخص کے جسم کے ذرات پر اپنا اثر کر وتب وہ صحت یاب ہو جاتا ہے۔اب وہی دوا جو مہینہ بھر اور بعض دفعہ دو مہینے یا دو سال تک اثر نہیں کر رہی ہوتی دعا کے نتیجہ میں وہ اثر انداز ہوتی ہے اور انسان معجزانہ رنگ میں شفا پا جاتا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی آیات ظاہر ہوتی ہیں۔پس نہ صرف یہ