مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 470 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 470

مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۸ء 470 ساری خیر قرآن کریم میں ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں قرآن عظیم کی عظیم تعلیم آپ نے پائی ایسی تعلیم کہ جس میں بے حد حسن پایا جاتا ہے حسن کس کو کہتے ہو تم ؟ سارے بچے بھی سمجھ لیں۔حسن اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس وقت وہ سامنے آئے تو اس میں قوت جذب پائی جائے اور وہ انسان کو اپنی خوبصورتی کے نتیجے میں اپنی طرف کھینچتی ہو۔سارے حواس کے لئے ایک حسن ہے۔نظر کا بھی حسن ہے۔مثلاً جب گلاب کے پھول کی پتیاں پوری طرح کھلی ہوئی ہوں اور مرجھانے کی طرف مائل نہ ہوں اور اس کا رنگ بہت اچھا ہو تو نظر اس کو دیکھتی ہے اور اس سے بڑی لذت اٹھاتی ہے آنکھ اس کو حسین دیکھتی ہے اور اس کی طرف کھنچتی ہے۔لوگ گلاب کا پھول تو ڑ کر اپنے بٹن ہول میں لگا لیتے ہیں۔پھر کان کا حسن ہے کوئی بڑی اچھی تلاوت کر رہا ہو تو بہت لطف آتا ہے۔کئی دفعہ ہماری مسجد میں اذان ہوتی ہے تو دوست میرے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ یہ کیسی بدصورت آواز والا آدمی آپ نے یہاں مؤذن مقرر کر دیا ہے جو اذان ٹھیک نہیں دیتا۔مؤذن اچھا ہونا چاہئے پس کان کا بھی ایک حسن ہے۔اسی طرح سارے ظاہری اور باطنی حواس کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک حسن پیدا کیا ہے اور سارے ظاہری اور باطنی حواس کے لئے جو حسن حقیقی ہے وہ قرآن کریم اور اسلامی تعلیم کے اندر پایا جاتا ہے۔اسی واسطے جب ہم اسلام کی صحیح تعلیم اور حسین تعلیم اور حقیقی تعلیم ان ممالک کے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تو باوجود اس کے کہ وہ مفلوج زندگی گزار رہے ہیں آدھے ٹھیک ہیں اور آدھے غلط ہیں ان کا آدھا جسم ٹھیک ہے اور آدھے جسم پر فالج ہے وہ آگے سے یہ سوال کر دیتے ہیں جیسا کہ ایک پریس کانفرنس میں ایک سمجھدار اور سلجھی ہوئی طبیعت کا صحافی مجھے کہنے لگا کہ اتنی حسین تعلیم ہے آپ مجھے یہ بتائیں کہ آپ نے اسے ہمارے عوام تک پہنچانے کا کیا انتظام کیا ہے؟ اس کو میں نے سمجھایا کہ چھوٹی سی جماعت ہے اتنے پیسے نہیں ہیں لیکن اس کے اس فقرے نے مجھے اتنا جھنجھوڑا کہ میں نے یورپ کے ہر ملک کے مبلغ کو کہا کہ پتہ کرو کہ اگر اسلام کی تعلیم کے بارہ میں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں ایک خط ان تک پہنچایا جائے تو کیا خرچ آئے گا۔سوئٹزر لینڈ ایک چھوٹا سا ملک ہے مگر وہاں ہر چیز بڑی منتظم ہے۔وہاں کے ڈاک خانے نے کہا کہ صرف ایک خط پہنچانے پر ۱۴ لاکھ روپیہ خرچ آئے گا اور ایک خط ڈالنا تو کافی نہیں اور ڈالنے چاہئیں پھر اور پھر اور ہمارے پاس ابھی پیسے نہیں۔چنانچہ میں نے اس کو کہا کہ ایک دن آئے گا جب ہم کچھ کریں گے۔لیکن اس نے اس دن مجھے اتنا ہلا دیا تھا کہ میں مجبور ہو گیا سوچنے پر ، اور معلومات حاصل کرنے پر ، اور دعائیں کرنے پر کہ اللہ تعالیٰ اس کے سامان پیدا کرے۔چنانچہ میں نے پوچھا اور اس کے مطابق کچھ کام کئے۔لیکن بہر حال ابھی ہماری طاقت نہیں ہے۔ہم نے دنیا کو غلط بات تو نہیں کہنی۔یہ حقیقت ہے کہ ابھی ہم ایسا نہیں کر سکتے۔اس دفعہ ایک صحافیہ ملی۔پر یس کا نفرنس میں آٹھ دس مردوزن بیٹھے ہوئے تھے جب وہ کمرے سے باہر نکلی تو اس نے آنسوؤں سے رونا شروع کر دیا اور ہمارے آدمیوں میں سے ایک کو کہنے لگی کہ اسلام کی تعلیم ایسی اچھی ہے مجھے یہ بتاؤ کہ تم اتنی دیر کے بعد ہمارے ملک میں کیوں آئے ہو۔تمہیں پہلے آنا چاہئے تھا۔اس کا