مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 469 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 469

469 فرموده ۱۹۷۸ء دو مشعل راه جلد دوم نہیں ہے یہ کیوں بنا کر تقسیم کرتا ہے۔میں نے یہاں استعمال کی چونکہ وہ وائرس بھی مارتی ہے اس لئے فلو کے لئے بہت اچھی ہے اور جرم کش اتنی ہے کہ ہمارے ایک دوست کو ذیا بیطس کی بیماری میں کار بنکل ہو گیا تھا جو کہ مہلک ہوتا ہے۔وہ کیل والا پھوڑا ہوتا ہے اور اندر ہی اندر پھیلتا رہتا ہے۔ڈاکٹر کئی مہینے تک علاج کرتے رہے اور آرام نہیں آرہاتھا مجھے پتہ لگا تو میں نے وہی دوائی جو شہد کی مکھی نے بنائی ہے اس کی دو ٹیو میں ان کو دیں اور ابھی وہ دو شیو نہیں ختم نہیں ہوئی تھیں کہ کار بنکل بالکل صاف ہو گیا۔لیکن وہ مارکیٹ میں نہیں آئی۔پہلے تو بہت چھپ چھپ کر دیتے تھے اب کچھ تھوڑا سا ظاہر ہونے لگ گئے ہیں۔غرض سچ میں جھوٹ، کھانے میں ملاوٹ یعنی کچھ اچھی چیزیں کچھ بری اور دوائیوں میں ملاوٹ کچھ اچھی دوائیں کچھ بری دوائیں۔مجھے ۱۹۷۵ ء میں ڈاکٹر نے ایک دوائی دے دی تھی کہ ذیا بیطیس کے لئے بہت اعلیٰ دوائی ہے آپ ضرور کھائیں اور ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ ۱۹۷۶ء میں وہاں سے خط آنے شروع ہو گئے کہ خدا کے لئے آپ اسے چھوڑ دیں اب سارے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ بعض دفعہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے انسان کو مار دیتی ہے ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ مفید دوائی مہلک بن گئی غرض یہ لوگ اس قسم کی زندگی گزار رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم بہت تہذیب یافتہ ہیں۔ایک طرف تو کہتے ہیں کہ انسانیت کا احترام قائم ہونا چاہئے اور دوسری طرف وہ مغربی ممالک جو بڑے اور طاقتور ہیں وہ ان مغربی ممالک کے جو چھوٹے ہیں اور تعداد کے لحاظ سے کم ہیں اور ان کے ملک کی زمین کم ہے بعض حصوں پر چپ کر کے قبضہ کر لیتے ہیں۔ابھی میرے آنے سے ایک مہینہ پہلے یہ واقعہ ہوا کہ ایک بہت بڑے ملک نے ایک چھوٹے سے ملک کے ایک جزیرے پر بغیر ایک گولی چلائے آ کر قبضہ کر لیا۔یہ تو احترام کرتے ہو تم ان کی ملکیت کا اور ان کی عزت کا کہ پوچھا بھی نہیں آ کر قبضہ کر لیا اور پھر بھی مہذب کے مہذب ہو۔یہ چیزیں آدمی کو بڑی پریشان کرنے والی ہیں۔ان ترقی یافتہ اقوام کو اندر سے ایک ایسا گھن کھا رہا ہے اور ان کی ہلاکت کے دن نزدیک سے نزدیک تر آ رہے ہیں اور ان کے لئے اس ہلاکت سے بچنے کا صرف ایک راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اسلام کی تعلیم کو سمجھیں اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہوں۔یہ امر کہ وہ اسلام کی تعلیم کو سمجھیں اس کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ان کو سمجھانے والا ہو۔اس زمانے کی ضروریات اور خرابیاں اور بہت سی باتیں میں ان کو بتاتا تھا اور اسلام کی تعلیم بھی بتا تا تھا۔یہ سب کچھ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سیکھا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ساری دنیا میں اعلان کیا ہے الخير كله في القرآن کہ میں اپنے گھر سے کچھ نہیں لایا میں نے جو کچھ پایا ہے وہ قرآن کریم سے ہی حاصل کیا ہے۔