مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 466 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 466

فرموده ۱۹۷۸ء 466 د و مشعل راه جلد دوم کے خیالات کو بدلنے کے لئے انہوں نے گردنیں اڑائیں اور کم و بیش سات سال تک یہ مظلومیت کی حالت مدنی زندگی میں بھی رہی۔میں سال تک آپ پر مظالم ڈھائے گئے۔دونوں جنگوں میں جو کہ عظیم جنگیں کہلاتی ہیں اتنی لمبی تکلیف کسی قوم نے نہیں اٹھائی۔لیکن ہیں سالہ مظالم سہنے کے بعد جب خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے حالات بدل دیئے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکہ کی فصیلوں پر کھڑے تھے اور اس وقت حالات اتنے بدل چکے تھے کہ رؤسائے مکہ میں اتنی سکت بھی نہیں تھی کہ تلوار میان سے نکالتے اور تلوار کا مقابلہ تلوار سے کرتے جو لوگ ہیں سیال تک لڑتے آئے تھے وہ اس دن بھی خواہ ہارنے والی جنگ لڑتے لیکن لڑتے۔مگر ان میں اتنی سکت بھی نہیں تھی۔اور آپ میں دنیوی نقطہ نگاہ سے اتنی طاقت تھی کہ جو چاہتے ان سے سلوک کرتے اور رؤسائے مکہ جب اپنے نفس پر غور کرتے تھے تو یہی خوف رکھتے تھے کہ ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جائے گا۔لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جو سلوک کیا وہ یہ تھا کہ ”جاؤ میں تم سب کو معاف کرتا ہوں اس کے بعد عرب میں جنگ ختم ہوگئی۔پھر کسری نے ایک نئی جنگ کی طرح ڈالی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اور ان کو بھی مسلمانوں نے معاف کر دیا۔پھر قیصر سامنے آیا۔جس طرح اب دو عالمگیر جنگیر ہوئی ہیں اسی طرح اس وقت دنیا کی دو بڑی طاقتیں اسلام کے مقابلہ پر آئیں لیکن ان کے ساتھ اسلام کے ماننے والوں نے جو حسن سلوک کیا وہ اپنی تاثیر کے لحاظ سے اتنا ز بر دست تھا کہ انہوں نے ان کے دل خدا اور خدا کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیت لئے۔دوسری بات میں نے انہیں یہ کہی کہ ہیں تو آپ تہذیب یافتہ لیکن آپ کی تہذیب اس بات کو برداشت نہیں کرتی کہ پورا سچ دلیری کے ساتھ بولیں۔سچ کے اندر تھوڑا سا جھوٹ ملاتے ہیں تب بات کرتے ہیں۔میں نے ان کو کہا کہ یہ Civilization Compromise of (کمپرومائز ) کرتے ہو اور یہ صرف بولنے کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ ہر شعبہ زندگی میں ان کا یہی حال ہے۔میں نے ان کو ایک مثال دی۔میں نے کہا کہ ایک فلم بنانے والی پارٹی امریکہ سے پاکستان آئی اور وہ لداخ کی طرف جارہی تھی۔لداخ اب دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ایک حصہ پاکستان میں ہے اور دوسرا ہندوستان میں ہے۔چنانچہ وہ یہاں بھی اور دوسرے حصے میں بھی گئے۔اس فلم کا نام انہوں نے رکھا تھا In Quest of Christ یعنی مسیح کی تلاش میں چونکہ بعض تاریخوں میں آیا ہے کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے برسوں بعد ان علاقوں میں پھرتے رہے اور یہاں انہوں نے یہودیوں کے اندر تبلیغ کی اس لئے ان کے نشان تلاش کرنے کے لئے ایک ٹیم یہاں بھیجی گئی ان کی لیڈر ایک عورت تھی جس نے پی ایچ ڈی کی ہوئی تھی وہ سارے اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے میں نے انہیں کہا کہ مجھے ایک بات بتاؤ تم لوگ in quest of Christ یعنی مسیح کی تلاش میں لداخ جارہے ہو اگر تمہیں واقعہ میں وہاں ایسے ثبوت مل جائیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے ۰،۶۰،۵۰،۴۰،۳۰ ۷ سال کے بعد ان لوگوں میں زندگی گزارتے رہے تو کیا تم یہ ثبوت اپنی فلم میں سینما ہال