مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 458 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 458

فرمودہ ۱۹۷۷ء 458 د دمشعل تل راه جلد دوم کہ عام آدمی کے دماغ کو اس کے ماخذ کا پتہ نہ لگے اور سمجھ میں نہ آئے کہ یہ کس آیت کی تفسیر ہے۔آپ نے فرمایا کسی کو سمجھ آئے یا نہ آئے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ قرآن کریم کی کسی آیت کی تفسیر نہ ہو۔اگر تجدید دین والی یہ حدیث درست ہے ( اور ہے یہ درست تو یہ قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت کی تفسیر ہونی چاہیے اور اگر یہ قرآن کریم کی کسی آیت کی بھی تفسیر نہیں ( میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہنا غلط ہو گا یہ ضرور کسی آیت کی تفسیر ہے ) تو پھر اس کو ہم یہ کہیں گے کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔کسی راوی نے کہیں سے غلط بات اٹھالی اور آگے بیان کر دی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ جس آیت کی تفسیر ہے وہ آیت استخلاف ہے جس کی ابھی قاری صاحب نے تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وعد الله الذين امنوا منكم و عملوا الصلحت ليستخلفنهم في الارض كما استخلف الذين من قبلهم و ليكمنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم و ليبدلنهم من بعد خوفهم امنا يعبدونني لا يشركون بى شيئًا ومن كفر بعد ذلک فاولئک هم الفاسقون (النورآيت (۵۶) اس آیت کریمہ کو آیت استخلاف کہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے خلیفہ اور مسجد کا لفظ اکٹھا استعمال کیا ہے ہمیں بتانے کیلئے کہ جہاں ہم مجدد بولتے ہیں وہاں سے مراد خلیفہ ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ حدیث قرآن کریم کے مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتی تو ہمیں یہ حدیث چھوڑنی پڑے گی۔آیت استخلاف اب میں آیت استخلاف کو لیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آیت استخلاف کے جو معنے گئے ہیں اس سے پہلے جو بات میں بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد اب ہر خیر کے آزادانہ حصول کے ذرائع بند ہو گئے یعنی کوئی شخص بھی اپنے طور پر آزادانہ خدا تعالیٰ سے کوئی خیر حاصل نہیں کر سکتا۔یعنی یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی شخص کا نبی کریم ہاتھ سے کوئی تعلق اور واسطہ نہ ہو اور اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی بشارت مل جائے، کوئی روحانی مقام مل جائے یا کوئی رتبہ مل جائے۔آپ نے فرمایا جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسے نبی کریم میلے کے افاضہ روحانیہ کی ضرورت نہیں اور وہ آپ کے روحانی افاضہ کے بغیر کوئی مقام حاصل کر سکتا ہے خواہ وہ کتنا چھوٹا مقام کیوں نہ ہو تو وہ ذریت شیطان ہے۔پس جب یہ حقیقت ہمارے سامنے آئی کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد (اصل میں تو پہلے بھی یہی تھا لیکن وہ ذرا دقیق مسئلہ ہے اور ہمیں اس کے بیان کرنے کی اس وقت ضرورت نہیں۔بہر حال ) اگر ہمیں ہر خیر محمد میں اللہ کے افاضہ روحانیہ کے نتیجہ میں مانی ہے تو جس حد تک ہمیں یہ خیر ملے اور اس سے ہم دوسروں کوفائدہ پہنچائیں تویہ گویا محمد اللہ کی نیابت میں ہم فائدہ پہنچا ہے ہوں گے۔یعنی جو دوسرے کو ہم سے کوئی فائدہ پہنچ رہا ہے یا ہم اسے جو فائدہ پہنچارہے ہیں وہ دراصل محمد اس کے کی