مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 421 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 421

421 فرموده ۱۹۷۴ء د و مشعل راه جلد دوم گئی ہے وَلَا تَحْمِلُ علينا اصرا كما حملته على الذين من قبلنا ربنا ولا تحملنا مالا طاقة لنابه - اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہماری طاقت میں تو اضافہ نہ کر لیکن ہمارے بوجھ میں کمی کر دے اس آیت کا یہ مفہوم نہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے بوجھ میں تو اضافہ کر لیکن ہماری طاقتوں میں اسی کے مطابق اضافہ کرتا چلا جا اور یہ نسبت قائم رہے کہ جتنی ذمہ داری ڈالی گئی اتنی طاقت بھی دے دی گئی۔اس کے لئے بھی دعا کیا کرو۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آپ کو اسلام اور احمدیت کی روح کے سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور آپ کے دلوں میں یہ بشاشت بھر دے کہ اس دنیا کی قربانیاں اور تکالیف کو برداشت کرنا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے مقابلہ میں کوئی چیز ہی نہیں اور ہر قربانی دے کر ہر چیز اس کے حضور پیش کر کے عاجزانہ اس کے سامنے جھکتے ہوئے اس سے دعائیں کرتے رہیں۔ہم بھی اور آپ بھی یعنی بڑی نسل بھی اور چھوٹی نسل بھی ، سب مرد و زن عاجزانہ دعائیں کرتے رہیں کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق جوں جوں ہماری ذمہ داریاں بڑھاتا چلا جائے اور ہمارے بوجھوں کو اور بھی بو جھل کرتا چلا جائے اس کے مقابلہ میں اسی کے مطابق ہماری طاقتوں میں اضافہ کرنے والا ہو۔ہماری بشاشتوں میں اضافہ کرنے والا ہو۔گذشتہ تین ساڑھے تین سال میں جماعت احمد پر پر (چونکہ اس منصوبہ کے ماتحت نئی ذمہ داریاں پڑنے جماعت احمد مجیدی والی تھیں) میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہیں گنازیادہ اپنا فضل کیا اور یہ فضل نمایاں کر کے آپ کے سامنے کر دیا۔آپ کے دل اس کی حمد سے بھر گئے اور آپ کے سر اُس کے آستانہ پر پہلے سے بھی زیادہ جھک گئے۔لیکن وہ جو پ کو پہچانتے نہیں آپ کی مخالفتوں میں لگے ہوئے ہیں وہ پہلے سے ہیں گنا سے بھی زیادہ گھبرا گئے کہ یہ کیا ہو گیا اور عجیب و غریب باتیں انہوں نے اب کرنی شروع کی ہیں جو نہ عقل کے معیار پر پوری اترتی ہیں نہ انصاف کے معیار پر پوری اترتی ہیں، نہ اخلاق کے معیار پر پوری اترتی ہیں۔نہ تقویٰ کے معیار پر پوری اترتی ہیں۔نہ انسانیت کے معیار پور پوری اترتی ہیں۔ان کے لئے بھی دعائیں کریں کہ خدا نے آپ کے دل میں کسی شخص کی دشمنی نہیں پیدا کی بلکہ آپ حقیقی معنی میں وہ قوم ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمرنگ ہو کر حقیقتا اخر جت للنَّاس کے مصداق دنیا کی بھلائی اور بہبود کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے اور نباہنے کی توفیق عطا کرے اور اپنے فضلوں کا زیادہ وارث بنائے۔آواب دعا کرلیں۔( بحوالہ روز نامہ الفضل ۱۴ مئی ۱۹۷۴ ء )