مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 412 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 412

412 فرموده ۱۹۷۳ء د و مشعل راه جلد دوم ایسا واقعہ ہے کہ سرمایہ دارانہ انقلاب روسی اشترا کی انقلاب اور چین کا سوشلسٹ انقلاب اس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتے۔پس تم اپنی کمزوریوں پر استغفار کے پردے ڈالو۔اپنی غفلتوں کو تو بہ کی راہوں کے ذریعہ پیچھے چھوڑ جاؤ اور خدا تعالی کی طرف جھکو اور اسی سے ہر قسم کی مدد چاہو۔ایاک نعبد کی رو سے تم یہ سمجھو کہ خدا نے تمہیں جو طاقت دی ہے تم اس کا صحیح اور پورا استعمال کرو گے۔اسی پر بس نہ کرو بلکہ خدا کے حضور عاجزانہ جھکو اور کہو کہ اے ہمار۔رب! تو نے ہمیں اسلام کی جنگ لڑنے کی طاقت دی تھی ہم نے اس سے پورا فائدہ اٹھایا مگر وہ تو کافی نہیں ہے۔کیونکہ محاذ بڑا وسیع ہے اور ہم چھوٹی سے جماعت ہیں۔دشمن دولت مند ہے اور ہم غریب ہیں۔دشمن جدید ہتھیاروں حتی کہ ایٹم بموں سے لیس ہے اور ہمارے پاس سوائے ان روحانی ہتھیاروں کے جو تو نے ہمیں دیئے ہیں اور کچھ بھی نہیں ہے۔اے خدا تو ان روحانی ہتھیاروں میں ایسی برکت ڈال ان میں ایسی تاثیر پیدا کردے کہ دنیا کے سارے مادی ہتھیار ان کے سامنے بیج ہو جائیں۔غرض جو ہتھیار آپ کے ہاتھ میں دیا گیا ہے وہ اخرجت للناس “ کا ہتھیار ہے۔آپ کے سارے ہتھیار اسی ایک نقطہ کے گردگھومتے ہیں کہ آپ نے بنی نوع انسان کی بے لوث خدمت کرنی ہے ، آپ نے کسی کو دکھ نہیں پہنچانا بلکہ ہر ایک کو سکھ پہنچانے کے انتظام کرنے کی کوشش کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ ہماری اس کوشش کو قبول فرمائے۔دنیا کے دکھ دور ہو جائیں اور ان کے لئے سکھ کے سامان پیدا ہو جائیں، راحت کے سامان پیدا ہو جائیں۔یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے گرد ہماری کوششیں گھومتی ہیں۔ہم دنیا کی بھلائی کے لئے ہیں۔ہمیں لوگوں کی خدمت کرنے کا مقام زیب دیتا ہے کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو خدا ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہی خوب فرمایا ہے کہ اے خدا! جو تیرا ہو گیا اور اس کی گود میں تو نے اپنے سارے جہانوں کو ڈال دیا لیکن جو تیرا ہو گیا وہ ان سارے جہانوں کو لے کر کیا کرے اس لئے ہمیں اس دنیا کی دولت اور اقتدار سے کیا تعلق ہمارے لئے تو خدا کا پیار اور اس کی محبت کافی ہے۔ہمیں دنیا کی طاقت سے کیا سروکار ہمیں تو روحانی طاقت کی ضرورت ہے جس سے ہم اسلام کی روحانی جنگ جیت سکیں اور اپنے پیدا کرنے والے رب کے حضور اور اپنے محبوب آقا حضرت محمد اللہ کے سامنے سرخرو ہو جائیں ہمیں ان کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔پس خدام کو یا درکھنا چاہیئے کہ ان کے سامنے ایک عظیم الشان مهم در پیش ہے۔اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے تیاری کی ضرورت ہے۔وہ خود بھی تیار ہوں اپنوں کو بھی تیار کروائیں۔چھوٹے بڑوں کو اور بڑے چھوٹوں کو ”ذکر“ کے حکم کے مطابق یاد دہانی کرائیں۔اپنے گھروں میں عورتوں سے بھی کہیں کہ یہ چین اور آرام سے بیٹھنے کا وقت نہیں ہے یہ کچھ کرنے کا وقت ہے۔ایک جنگ لڑی جارہی ہے یہ ایک آخری اور تعظیم جنگ ہے جس صلى الله میں آنحضرت ﷺ کے روحانی جرنیل مہدی معہود کے پیرو اور متبعین برسر پیکار ہیں۔پس میں جماعت کے چھوٹوں اور بڑوں مردوں اور عورتوں سے کہتا ہوں کہ اس جنگ میں تم ہی غالب آؤ گے تم ہی فاتح ہو گے۔انتم