مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 400 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 400

400 فرموده ۱۹۷۳ء د و مشعل راه جلد دوم دد اخرجت للناس “ کی بشارت اور اس کی حقیقت کی غماز ہے۔یہی جد و جہداب بھی جاری رہنی چاہیئے تا کہ یہ امت حقیقی معنے میں اخرجت للناس بن جائے کیونکہ ” اخرجت للناس کا کمال جلوہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کے دائرہ سے باہر سوائے چوہڑے چماروں کے اور کوئی باقی نہ رہے اور ایسا دن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے آنے والا ہے۔یعنی یہ پیشگوئی پوری ہوگی کہ یہ امت حقیقتا اور عملاً بھی (ویسے تو کسی نہ کسی شکل میں ہمیشہ ہی اخرجت للناس رہی ہے ) تمام نوع انسان کے لئے خیر و برکت کا موجب بن جائے۔اس کی خیر اور اس کی برکات سے فائدہ اٹھا کر تمام نوع انسانی امت واحدہ مسلمہ بن جائیں۔آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں یعنی آخری زمانہ میں امت واحدہ کا ظہور مقدر ہے۔اور یہ آخری زمانہ مہدی معہود کا زمانہ ہے۔چنانچہ پہلے نوشتوں میں بھی، قرآن کریم کی آیات میں بھی اور خود آنحضرت ﷺ کے ارشادات میں بھی اس طرف اشارہ موجود ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا اور وہ زمانہ قرب قیامت کا زمانہ ہوگا اور اس لئے امت محمدیہ الله کا آخری دور ہو گا جب مہدی معہود مبعوث ہوگا اور شیطان سے آخری مذہبی اور روحانی جنگ لڑی جائے گی۔میں نے اپنی بہنوں کو بھی اس طرف توجہ دلائی تھی اور اسی بڑے قصے کو مختصر کر کے اپنے بچوں کو بھی بتایا تھا کہ ہے تو یہ قصہ طویل کیونکہ اس کا آغار حضرت آدم کی بعثت سے ہوا۔حضرت آدم کی بعثت کے وقت پر جو پہلی شرعی وحی نازل ہوئی تھی جس نے انسانوں کے گروہ کو اکٹھا کیا تھا اور خدا تعالیٰ کی ہدایت اور نور سے روشناس کرایا تھا، وہی انسان اور شیطان میں وجہ مخاصمت بن گئی۔چنانچہ اس وقت شیطان نے خدا سے یہ اجازت مانگی تھی کہ میں تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں گا۔آخری جنگ غرض حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک انسان اور شیطان کے درمیان یہ جنگ جاری ہے۔الہی نوشتوں میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ جنگ مہدی معہود کے زمانہ میں آخری مرحلے میں داخل ہو گی۔شیطان کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کی آخری جنگ مہدی معہود کے زمانہ میں لڑی جائے گی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ اس کے متعلق فرمایا ہے:- ” جب سے کہ خدا نے انسان کو بنایا ہے اس کا قانون قدرت یہی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ وہ نوع انسان میں ایک وحدت نوعی پیدا کرنے کے لئے ان میں سے ایک شخص پر ضرورت کے وقت میں اپنی معرفت تامہ کا نور ڈالتا ہے۔اور اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور اپنی کامل محبت کا جام اس کو پلاتا ہے اور اس کو اپنی پسندیدہ راہ کی پوری بصیرت بخشتا ہے اور اس کے دل میں جوش ڈالتا ہے تا کہ وہ دوسروں کو بھی اس نور اور بصیرت اور محبت کی طرف کھینچے جو اس کو عطا کی گئی ہے اور اس طرح پر باقی لوگ اس سے تعلق پیدا کر کے اور اسی