مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 401
دومشعل قل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۳ء کے وجود میں شمار ہو کر اور اس کی معرفت سے حصہ لے کر گناہوں سے بچتے اور تقویٰ طہارت میں ترقی کرتے ہیں۔اس قانون قدیم کے لحاظ سے خدا نے اپنے پاک نبیوں کی معرفت یہ خبر دی ہے کہ جب آدم کے وقت سے چھ ہزار برس قریب الاختتام ہو جائیں گے تو زمین پر بڑی تاریکی پھیل جائے گی اور گناہوں کا سیلاب پورے زور سے بہنے لگے گا اور خدا کی محبت دلوں میں بہت کم اور کالعدم ہو جائے گی۔تب خدا محض آسمان سے بغیر زمینی اسباب کے آدم کی طرح اپنی طرف سے روحانی طور پر ایک شخص میں سچائی اور محبت اور معرفت کی روح پھونکے گا اور وہ مسیح بھی کہلائے گا کیونکہ خدا اپنے ہاتھ سے اس کی روح پر اپنی ذاتی محبت کا عطر ملے گا اور وعدہ کا مسیح جس کو دوسرے لفظوں میں خدا کی کتابوں میں سیح موعود بھی کہا گیا ہے۔شیطان کے مقابل پر کھڑا کیا جائے گا اور شیطانی لشکر اور مسیح میں یہ آخری جنگ ہوگا اور شیطان اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ اور تمام ذریت کے ساتھ اور تمام تدبیروں کے ساتھ اس دن روحانی جنگ کے لئے تیار ہو کر آئے گا اور دنیا میں شر اور خیر میں کبھی ایسی لڑائی نہیں ہوئی ہوگی جیسے کہ اس دن ہوگی کیونکہ اس دن شیطان کے مکائد اور شیطانی علوم انتہا تک پہنچ جائیں گے اور جن تمام طریقوں سے شیطان گمراہ کرسکتا ہے۔وہ تمام طریق اس دن مہیا ہو جا ئینگے تب سخت لڑائی کے بعد جو ایک روحانی لڑائی ہے خدا کے مسیح کو فتح ہوگی اور شیطانی قوتیں ہلاک ہو جائیں گی اور ایک مدت تک خدا کا جلال اور عظمت اور پاکیزگی اور توحید زمین پر پھیلتی جائے گی اور وہ مدت پورا ہزار برس ہے جو ساتواں دن کہلاتا ہے۔بعد اس کے دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔سو وہ میسیج میں ہوں اگر کوئی چاہے تو قبول کرے۔401 لیکچر لا ہور صفی ۳۲ ۳۳ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲ ۱۷ صفحه ۱۷۳) یہی وہ آخری جنگ ہے جو شر اور خیر کے درمیان لڑی جانے والی ہے۔یہی وہ آخری جنگ ہے جس میں اسلام نے تمام ادیان باطلہ پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔یہی وہ جنگ ہے جو آخری ہے اس معنی میں کہ اس کے بعد بیرونی محاذ پر اسلام کی کوئی جنگ نہیں لڑی جائے گی۔کیونکہ بیرونی محاذ ہی ختم کر دیا جائے گا۔چنانچہ یہ وہ آخری جنگ ہے جس میں شر کی یلغار کا آغاز قریباً انیسویں صدی میں ہوا اور جس میں روز بروز شدت پیدا ہوتی چلی گئی۔یہاں تک کہ جب مہدی معہود کی بعثت ہوئی تو اس وقت اسلام کے خلاف حملہ اپنے پورے عروج پر پہنچ چکا تھا۔اسلام کے خلاف ادیان باطلہ کا ایسا خطر ناک حملہ تھا کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔گویا ساری دنیا اسلام کے خلاف صف آرا تھی۔ایک طرف دہریت تھی، دوسری طرف یہودیت تھی، تیسری طرف عیسائیت تھی اور چوتھی طرف ہندو اور دوسرے گروہ تھے جو اسلام سے سخت عنا در کھتے اور اسے صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے تھے۔