مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 375 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 375

د دمشعل دوم فرموده ۱۹۷۳ء 375 وہاں ژالہ باری نہیں ہوتی حالانکہ وہ کھیت بیچ میں آیا ہوا ہے۔اب یہ ایک ایسی شکل بنتی ہے کہ آدمی حیران ہوتا ہے۔لیکن جس کی آنکھ دیکھنے والی اور دماغ سوچنے والا ہے ( یہی مشاہدہ ہے ) وہ قدرت کی اس کرشمہ سازی کو دیکھ کر اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ خدا نے کیا ہی سچ فرمایا ہے۔أأنتم تزرعوونه أم نحن الزارعون (الواقعه:۶۵) انسان کا کام ہے کوشش کرے۔خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق کوشش کرے اور اپنی کوشش کا عام حالات میں پھل حاصل کرے۔لیکن وہ اس وقت حاصل کرے گا جب خدا یہ کہے کہ تمہاری کوشش کو میں بار آور کرتا ہوں تمہیں اس کا پھل مل جائے گا لیکن جب خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہے کہ تم مغرور نہ ہو جانا اس پیداوار میں اس کے حصول میں تمہاری کوششوں کا نتیجہ ضرور ہے۔کیونکہ میں نے تمہیں کہا کہ میرے اصول کے مطابق کوشش کرو لیکن آخری حکم (جس کے نتیجہ میں مثلاً کسی کو کتنی گندم ملتی ہے ) آسمانوں سے میں نازل کرتا ہوں۔ان کے کھیتوں کے متعلق اور ان سے حاصل ہونے والے پھلوں کے متعلق میں فیصلہ کرتا ہوں۔جو لوگ آنکھیں کھلی رکھتے ہیں۔یہ بات ان کے مشاہدہ میں آنی چاہیئے اور قرآن کریم نے جو اصول بیان کیا ہے وہ ان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔ان میں قدرت نے ہمارے لئے بہت سے سبق رکھے ہیں۔ان کے پاس سے یونہی گزر نہیں جانا چاہیئے۔کہ آنکھ کسی چیز کو دیکھے نہیں دماغ کسی چیز کو پکڑے نہیں اور حافظہ کسی چیز کو یاد نہ رکھے اس لئے پریکٹس کرنے کے لئے مشاہدہ بڑا ضروری ہے۔اس طرح دنیا وی حالات کے مطابق آپ لوگوں کو ان حواس کے ذریعہ فائدہ اُٹھانے کی عادت پڑ جائے گی۔یہاں مجلس صحت کے زیر انتظام تین سیروں کے مقابلے ہو چکے ہیں اور مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ ہمارے جو اطفال ہیں ( پندرہ سال سے چھوٹی عمر کے احمدی بچے ) وہ اس میں بڑے شوق سے حصہ لیتے ہیں اور بعض کے تو مضمون بھی بڑے اچھے ہوتے ہیں۔گوآٹھویں جماعت والے طالب علم کی لکھائی ایسی ہی ہوگی جیسے آٹھویں جماعت کے طالب علم کی ہونی چاہیئے۔لیکن مشاہدہ والا حصہ بڑا پیارا ہوتا ہے آج کل ایک بہت چھوٹی سی چڑیا جو اڑنے پھرنے کی بڑی شوقین ہے اس لئے وہ گھومتی رہتی ہے آج کل ربوہ میں آئی ہوئی ہے۔جو خدام پیج پر بیٹھے ہیں ان میں کوئی دوست مجھے بتائیں وہ کونسی چڑیا ہے۔سٹیج میں سے کوئی خادم مجھے بتائے کہ کیا کسی نے اس کو دیکھا ہے؟ ( کسی نے جواب نہ دیا۔فرمایا وہ ایک پڑی ہوتی ہے جسے ہم چھوٹی چڑیا کہتے ہیں۔عام چڑیا کا ایک تہائی حصہ جتنا اس کا جسم ہوتا ہے۔چپکتے ہوئے کالے مور کی طرح اس کے پر ہوتے ہیں۔لمبی اس کی چونچ ہوتی ہے۔پنجابی میں اس کو پھل سنکھنی بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ شہد کی مکھی کی طرح پھول کا رس بھی چوس جاتی ہے۔اس کے پروں کے نیچے نہایت تیز شوخ سرخ اور نہایت خوبصورت زردرنگ کے چند ایک بال بھی ہوتے ہیں۔جب تک وہ اپنے پر پھیلائے نہ اس وقت تک وہ آپ کو نظر نہیں آئیں گے۔جس طرح مچھلیاں پکڑنے والا جانور جو تالابوں اور دریا کے کنارے ہیلی کاپٹر