مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 374 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 374

374 فرموده ۱۹۷۳ء د و مشعل راه جلد دوم دد زراعت میں تمہیں کس چیز نے فائدہ پہنچایا کس چیز نے تمہیں نقصان پہنچایا۔چنانچہ ایک دیہاتی سے اس نے پوچھا۔تو اس نے کہا ہمارا یہ مشاہدہ ہے کہ اگر آندھی اور طوفان کی وجہ سے گندم لیٹ نہ جائے۔زمین کی اوپر کی سطح خشک نہ ہو ہر وقت نم رہے تو فصل زیادہ ہو جاتی ہے۔اس نے اس بات کو نوٹ کیا اور اس کا مشاہدہ بھی یہی تھا کہ اس علاقے میں گندم کی فصل بہت زیادہ ہورہی تھی گذشتہ سالوں کی نسبت بھی اور بعض دوسرے علاقوں کی نسبت بھی۔انہوں نے سب سے کہا کہ ایک غریب زمیندار کا یہ مشاہدہ ہے۔اس سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔گو انہوں نے اجتماعی ملکیت کا نظام رائج کر دیا ہے لیکن ابھی تک وہاں اسی طرح کے درمیانہ درجہ کا بلکہ غریب زمیندار بھی ہے جس طرح پہلے تھا۔اس انقلاب کی وجہ سے وہ بادشاہ تو نہیں بن گئے۔اب دیکھو چوٹی کا ماہر زراعت دیہاتی لوگوں سے جا کر باتیں کرتا ہے ان سے حالات پوچھتا ہے اور پھر اس مشاہدہ کی رو سے چینی لوگ اس نتیجہ پر پہنچے کہ لیس للانسان الاماسعی۔کہ انسان جتنی کوشش کرے گا ویسا ہی اس کو پھل ملے گا۔گو اس میں استثناء بھی ہے لیکن اصول یہی ہے کہ لیس للانسان الا ما سعی۔اگر انسان نے کچھ حاصل کرنا ہے تو جو کچھ حاصل کرنا ہے اس کے مطابق اسے کوشش کرنی پڑے گی۔چنانچہ چینی لوگ بڑی محنت کرتے ہیں۔وہ قومی لحاظ سے اتنی محنت کرتے ہیں اور اتنی مشقت اٹھاتے ہیں کہ ہمیں دیکھ کر شرم آتی ہے۔حالانکہ ہم احمدی دوسروں کے مقابلہ میں بہت زیادہ محنت کرتے ہیں مگر شاید دنیاوی محنت میں وہ ہم سے بھی آگے نکلے ہوئے ہوں۔مجھے یہ سوچ کر تکلیف ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں لیڈر بنایا ہے بنی نوع انسان کا۔ہر میدان میں ہم نے ہر دوسروں سے آگے نکلنا ہے۔یہ سبق آپ کو اس عمر میں سیکھنا چاہیئے۔اور اس کے مطابق آج زندگیوں کو ڈھالنا چاہیئے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے زراعت کا ایک استثناء بھی ہے۔اور اسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔قرآن کریم ایک جگہ زمینداروں کو مخاطب کر کے (جن کا کام ہے کھیتی باڑی کرنا ) کہتا ہے انتــم تـــزرعــونـــه أم نـحـن الزارعون (الواقعہ آیت ۶۵) کہ کیا کھیت تم اگاتے ہو اپنی محنت اور فراست سے اور کھا د وغیرہ استعمال کر کے یا اچھے بیج کا انتخاب کر کے یا ہم اُگاتے ہیں؟ قرآن کہتا ہے کہ تم پوری محنت کرو۔تم کھیتوں کو وقت پر پانی دو تم فصلوں کو گرنے نہ دو تم زمین کی سطح کو بے شک گیلا رکھو۔فصلوں کی نگرانی کرو۔مروجہ طریق پر کھا دڈالو۔سب کچھ کر و مگر پھر بھی اس حقیقت کو یاد رکھو کہ کھیتیاں میں اُگا تا ہوں تم نہیں اُگاتے۔اور یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر فصل نہیں اگتی۔ایسے حادثات جن پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا مثلا ژالہ باری ہو جاتی ہے۔زالہ باری سے قبل اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دکھایا کہ بڑی اچھل فصل ہے۔بالیں لدی ہوئی ہیں۔ان کے اندر دانہ موٹا موٹا ہے۔دس بارہ دن رہتے ہیں اس کے کاٹنے میں۔دس پندرہ منٹ کے لئے چھوٹی سے بدلی آتی ہے اور اس سے اتنے اولے برستے ہیں۔اتنی شالہ باری ہوتی ہے کہ کسی کھیت کی ( میرا یہ اپنا مشاہدہ ہے ) ۸۰ بائیں جھاڑ کر چلی جاتی ہے۔جس کا مطلب %۸۰ فصل کا نقصان ہو گیا۔جب کہ ساتھ کے کھیت سے ۵۰۰ جھاڑتی ہے۔اور اس کے ساتھ کے کھیت میں ۲۰۰ نقصان ہوتا ہے۔کسی کا ۱۰۰ نقصان ہوتا ہے۔کسی میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔