مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 372 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 372

372 فرموده ۱۹۷۳ء دد د و مشعل راه جلد دوم پس اگر دیانت نہیں ہوگی اگر امانت نہیں ہوگی۔اگر لوگ جھوٹ بولیں گے۔اگر ان میں اہلیت نہیں ہوگی تو دنیا کے اموال تو ان کو ملیں گے لیکن ایک مسلمان کے لئے محض دنیا کے اموال میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔وہ تو ذریعہ ہے دنیا میں ترقی کرنے اور اس دنیا میں اور مرنے کے بعد کی جو دنیا ہے جس پر ہمیں ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ آج کی دنیا پر۔اگر وہاں عزت و شرف کے اپنے لئے سامان پیدا کرنے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا اور اُس کے پیار کو ہم نے لینا ہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن کریم سے خیر و برکت کے سامان حاصل کریں۔قوت مشاہدہ کی اہمیت اس تربیتی کلاس میں آپ سے بہت سے کام لئے جائیں گے۔بہت سے عملی کام۔مثلاً ورزش کے بینائی سے کام لینا آنکھیں کھلی رکھنا۔Observe یعنی مشاہدہ کرناوغیرہ۔جہاں تک قوت مشاہدہ کا تعلق ہے (ایک اور میں مثال دے دیتا ہوں )۔یہ قوت جہاں روحانی اور دینی طور پر شرف کے سامان انسان کے لئے پیدا کرتی ہے وہاں دنیا میں بھی شرف کے سامان پیدا کرتی ہے۔مشاہدہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک آنکھ سے دیکھ کر یعنی موجودہ چیز کا مشاہدہ دوسرے گذرے ہوئے واقعات کو مشاہدہ کی آنکھ سے دیکھنا۔یہ بھی انسانی مشاہدہ ہی ہوتا ہے مثلاً انسان تاریخ پڑھتا ہے اور اسے بہت سی چیزوں کا علم ہوتا ہے پس دینی لحاظ سے جب ہم انسانی زندگی پر نوع انسانی کی زندگی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ ہی جب انبیاء اور اللہ تعالیٰ کے مامور مبعوث ہوتے رہے اور اس کے مرسل دنیا کی طرف آتے رہے۔اور اس کے پیارے ولی جو ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے کسی خاص علاقہ چھوٹے علاقے یا بڑے علاقے یا دنیا کی طرف مبعوث کیا مثلاً اب ایک مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام ) آ گیا ہے۔غرض جب کبھی کوئی نبی یا ولی لوگوں کی طرف بھیجا گیا تو علاوہ ظاہری مخالفت کے یعنی ایک تو جنگ ہے۔تلوار نکال لی۔ڈنڈالے لیا کلہاڑی پکڑ لی چھری بغل میں دبالی خنجر ہاتھ میں لیا۔نیزہ ہے تیر کمان وغیرہ ہے۔مادی سامانوں کے ساتھ ان کی گردنیں اڑانے کی کوشش کی گئی ایک یہ مخالفت ہے۔ایک مخالفت ہے ان کے خلاف جھوٹ بولا اور افترا باندھا ہے۔کچھ اور کہا کچھ جیسا کہ آج کل آپ دیکھ رہے ہیں۔جب بھی ہمارے متعلق اخبارات میں ذکر ہوتا ہے آپ کو معلوم ہوگا کہ سچائی کی راہ کو چھوڑ کر کچھ اور ہی ہوتا ہے۔اس کو سچائی ہم نہیں کہہ سکتے۔نہ دیانت داری ہم اسے قرار دے سکتے ہیں۔بہر حال جھوٹ بھی دراصل غصہ اور تعصب اور نفرت کے نتیجہ میں بولا جاتا ہے۔نا مجھی اور جہالت کے نتیجہ میں دشمنی اور نفرت پیدا ہوتی ہے حالانکہ معاشرتی زندگی کی پر امن بقا اور سلامتی کے لئے آپس میں پیار پیدا ہونا چاہیئے۔مگر دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ آپس کے جو تعلقات ہیں اس میں بھی ہمیں محبت اور حسن سلوک اور پیار کی کمی محسوس ہوتی ہے۔اور اس کے مقابلہ میں جو خدا تعالیٰ کے پیارے بندے اپنی قوم میں اپنے علاقہ میں اپنے وقت کے لئے یا ساری دنیا کے لئے مثلاً حضرت نبی اکرمی جیسا وجود دنیا کی طرف مبعوث ہوا۔غرض انبیاء آتے ہیں تو ان کا بنیادی ہتھیار حسن سلوک خدمت اور پیار ہوتا