مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 367 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 367

دومشعل دوم فرموده ۱۹۷۳ء 367 ۱۲۴۲ ۱ پریل نماز مغرب سے قبل حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی از راہ شفقت ربوہ کے اجتماعی وقار عمل کے مقام پر تشریف لائے اور اپنے خدام کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے جو خطاب فرمایا اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔اہل ربوہ خصوصاً نو جوانان و اطفال ربوہ نے اس وقار عمل کو انجام تک پہنچایا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ جس نے اپنی یہ صفت بھی ہم پر ظاہر کی کہ میں الشکور ہوں آپ کی اس مخلصانہ اور عاجزانہ اور منکسرانہ اور متواضعانہ خدمت کو قبول کرے اور اپنی بے پایاں رحمت سے احسن جزا آپ سب کو عطا کرے“۔دعا کے بعد حضور نے فرمایا:- یہ کام تو ختم ہو گیا۔یہ سمجھیں ایک کلاس تھی۔کام کا تجربہ بہت ہو گیا۔سامان جس قسم کا چاہیئے اس کا تجربہ بھی ہوگیا۔اب ایک اور کام ہے۔یہ تو قریباً ایک مہینے کا کام تھا وہ دو سال کا کام ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ وہ ہوگا اور وہ جو ہماری زمین دریا چھین کر لے گیا تھا اس کو ہم نے دریا سے چھیننا ہے۔انشاء اللہ جو پل کے پاس سے لیکر آگے ایک پتھروں والی جگہ ہے جہاں بعض دفعہ ہمارے دوست ڈوب بھی گئے ہیں اور جہاں نیچے پانی چکر کا تا ہے وہاں تک انجنئیر وں کے مشورے اور نقشوں کے مطابق پتھر رکھنے ہیں۔جب پانی بڑھے گا تو ریت بیچ میں ڈالا کرے گا لیکن برسات سے پہلے اس قسم کا اور اتنا کام ہو جانا چاہیئے کہ برسات میں دریا بھی ہماری خدمت کرے اور بیچ میں بھل اور ریت ڈالے۔باقی کی ہم ڈال لیں گے انشاء اللہ۔اور پھر لیول کر کے نہایت اچھی سیر گاہ بنائی جائے گی اور یہ جو پکی سڑک ہے اس کو دریا تک لیجانا پڑے گا ( کالج کے سامنے والی سڑک ) ورنہ وہ سیر گاہ کسی کام نہیں آئیگی۔جماعت کے ہر طبقے کو اس کی ذمہ داری سے آگاہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- اگر وہ ذمہ داری جو ہماری چھوٹی سی جماعت پر اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کی شاہراہ فتح ونصرت پر کامیاب انجام تک پہنچانے کی ڈالی ہے اسے پورا کرنا ہے تو ہماری بہنیں ہمارے ساتھ برابر کی شریک ہونی چاہیئیں۔مجاہدے میں اور عمل میں لیکن ہماری بہنیں اس وقت تک پوری طرح شریک نہیں ہوسکتیں جب تک کہ جماعت احمدیہ کوتسلی نہ ہو کہ کوئی بھی ہو خواہ وہ احمدی ہے یا دوسرے فرقوں سے تعلق رکھتا ہے یا غیر مسلم ہے کوئی بھی شخص کوئی بھی انسان ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔یہ تسلی ہونی چاہیئے جماعت کو تب وہ شریک ہو سکتی ہیں۔اور یہ نہیں ہوسکتا جب تک آپ احمدی جو ہیں وہ غض بصر کی عادت نہ ڈالیں۔کوئی ہندنی سامنے آ جائے یا کوئی اچھوت سامنے آ جائے۔آپ کی نظر عورت کے چہرے کی طرف نہیں اٹھنی چاہیئے۔تب آپ ان سے یہ ڈیمانڈ