مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 361
فرموده ۱۹۷۲ء 361 دد مشعل راه تل راه جلد دوم قوت کا ، اس میں داخل ہوئے بغیر اور ان دونوں راستوں کو ایک بنائے بغیر انسان نہ حقیقی ترقی حاصل کر سکتا ہے نہ حقیقی سکون پا سکتا ہے اور نہ وہ خدا تعالیٰ کی رضا اور پیار کے جلوے دیکھ سکتا ہے۔خدا تعالیٰ تو بڑا پیار کرنے والا ہے۔آپ اس کے پیار کو جذب کریں اور اس نیت کے ساتھ جذب کریں کہ آپ دنیا کی راہ نمائی کر کے بنی نوع انسان کو خدائے رب کریم ، خدائے غفور رحیم اور خدائے ودود کے قدموں میں لے آئیں گے۔مگر یہ صرف اسی طرح ہو سکتا ہے کہ آپ ان کیلئے قربانیاں دے کر ان کے ہاتھوں سے چھیڑ میں کھا کر دکھ سہہ کر ان کو سمجھا بجھا کر خدا کے حضور سجدہ ریز ہونے پر مجبور کر دیں۔اگر کوئی ہمارے ساتھ زیادتی کرتا ہے تو اس سے آخر کیا فرق پڑتا ہے۔کیا خدا تعالیٰ کے پیار کو ہم اس لئے ترک کر دیں گے کہ بعض جگہ ہمارے منہ پر چھیڑ لگائی جاتی ہے۔کیا کوئی ایسا شخص جس نے اپنی دونوں مٹھیوں میں ایک سو اشرفیاں پکڑی ہوں ایک چھیڑ سے محفوظ رہنے کیلئے ان اشرفیوں کو پھینک دیا کرتا ہے۔سوائے احمق اور مجنون کے کوئی شخص نہ ایسا سمجھ سکتا ہے اور نہ ایسا کر سکتا ہے۔اگر انسان دنیا کے اصول کی خاطر بڑی سے بڑی تکلیفوں کو برداشت کر لیتا ہے تو اتنی بڑی روحانی دولت کی خاطر اور اتنی بڑی رحمت کی خاطر وہ اتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو کیوں برداشت نہیں کرے گا۔پس تکلیفیں تو ضرور آئیں گی اور وہ آپ کو برداشت بھی کرنی پڑیں گی کیونکہ آپ کو تکلیفیں جھیلنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔آپ کو مصائب سہنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ آپ کو خدا کی جنتوں میں اعلیٰ مقام حاصل ہو۔جب تک آپ خدا کی راہ میں قربانی نہیں دیں گے۔جب تک آپ کے دلوں میں یہ آگ نہیں بھڑک اٹھتی کہ آپ تمام بنی نوع انسان کو اکٹھا کر کے علم کے میدان اور عقل اور فکر کے میدان میں ان کی راہ نمائی اور رہبری کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے قدموں میں حضرت محمد رسول اللہ علیہ کے جھنڈے تلے جمع نہیں کریں گے اس وقت تک آپ کیسے چین سے بیٹھ سکتے ہیں۔جب تک آپ کے اندر یہ خواہش پیدا نہیں ہوتی اور یہ آگ نہیں بھڑک اٹھتی اس وقت تک آپ اس عظیم ذمہ داری سے کیسے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ میں اپنی ذمہ داری کو نباہ رہا ہوں اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے آخر میں بھی کمزور انسان ہوں۔لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ میرے دل میں یہ آگ لگی ہوئی ہے کہ میں آپ کو جھنجھوڑ کر اس مقام پر لا کے کھڑا کر دوں جو مقام خدا تعالیٰ نے ایک احمدی نوجوان کیلئے بنایا ہے تا کہ آپ اس کی رحمتوں اور برکتوں کے وارث بنیں۔آپ کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور رحمتیں آپ پر نازل ہوں گی۔خدا تعالیٰ ایک قربانی لیتا ہے اور اس کے بدلے میں اس دنیا میں بھی دس اور بعض دفعہ سو اور بعض دفعہ دس ہزار اور بعض دفعہ بے شمار دے دیتا ہے۔اُخروی زندگی کا تو سودا ہی بڑا عجیب ہے۔اس دنیا میں انسان انسان سے کبھی اس قسم کا سودا نہیں کر سکتا تھا جو خدا نے اپنے بندوں سے کر لیا۔پچاس سال، ساٹھ سال ، ستر سال، اتی سال کوئی زمانہ ہے اس ابدی زندگی کے مقابلہ میں جس کی تمہیں بشارت دی گئی ہے جس کی ابتدا تو ہے لیکن جس کی انتہاء کوئی نہیں۔پس یہ سودا مہنگا نہیں ہے آپ فکر کریں غور کریں، عقل سے کام لیں۔شعور کو بیدار کریں، عرفان کو حاصل