مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 355
د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۲ء 355 یہ جڑی بوٹیوں کے اجزاء اور مرکبات کا علم ہے یہ علم ہزاروں سال سے موجود اور روز بروز بڑھتا چلا گیا ہے۔یہ کیوں بڑھا۔یہ اسی فکر کے نتیجہ میں بڑھا۔مثلاً لوگوں نے ایک چیز کا مشاہدہ کیا اور غور و فکر کے بعد وہ کسی خاص نتیجہ پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور ان کی عقل نے عملاً ان کو درست پایا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے ہزاروں لاکھوں چیزیں پیدا کیں جن میں سے مثلاً ایک یہ چائے بھی ہے جسے ہم روزانہ کئی بار پیتے ہیں اس کا استعمال کیسے رائج ہوا یہ ایک طویل داستان ہے۔جائے کی ابتداء مختصراً یہ کہ چنگیز خان یا اس کے بیٹوں کی ایک فوج نے جو لاکھوں کی تعداد میں تھی کسی علاقہ پر حملہ آور ہونے کیلئے کوچ کیا۔راستے میں ایک جگہ جہاں انہوں نے پڑاؤ کیا ہیضہ کی وباء پھیلی ہوئی تھی۔فوج کے سپہ سالار نے اطباء کو بلایا اور کہا کہ ہم تو اس وبائی مصیبت میں پھنس گئے ہیں، اس سے نکلنے کی کوئی ترکیب بتاؤ چنا نچہ اطباء نے مشورہ دیا کہ فوج کے ہر سپاہی اور افسر کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ پانی کو ابال کر پیئے۔سپہ سالار نے ساری فوج کو حکم دے دیا جس پر فی الفور عمل درآمد بھی ہونے لگا۔اس زمانے میں افسر اعلیٰ کی طرف سے جو کم ملتا تھا اس کی یا تو پابندی کرنی ہوتی تھی یا گلا کٹوانے کیلئے تیار رہنا پڑتا تھا۔چنانچہ انہوں نے جب پانی کو ابال کر پینا شروع کیا تو انہیں بدمزہ لگا۔آپ بھی اگر پانی ابال کر پیئیں تو وہ آپ کو بدمزہ لگے گا۔بہر حال چونکہ پانی ابالنے سے بک بکا ہو جاتا ہے اس لئے ان کو چنداں پسند نہ آیا۔اتفاقاً ایک دن ان کا کوئی آدمی جنگل میں سے گزررہا تھا اس نے دیکھا ایک خوشبودار جنگلی بوٹی اُگی ہوئی ہے۔وہ اس کے کچھ پتے لایا اور اپنے ساتھیوں سے کہا آؤ تجربہ کر یں۔انہوں نے پانی ابالا اور وہ پتے بھی اس میں ڈال دیئے تو وہ پانی ان کو اچھا لگا۔چنانچہ ظاہری حواس سے انہیں ایک علم حاصل ہوا۔یعنی ان کی آنکھ نے پتوں کو دیکھا اور زبان نے اس کا مزہ چکھا۔پھر انہوں نے سوچا اس پر غور اور فکر کر کے اس کا کوئی نتیجہ نکالنا چاہیئے۔اور اس سے نتیجتا انہوں نے یہ اخذ کیا کہ یہ پتے خالی پانی کا مزہ ہی نہیں بدلتے بلکہ معدہ کی IRRITATION (اری ٹیشن ) یعنی سوزش اور جلن کو بھی دور کرتے ہیں۔تو گویا پہلا نتیجہ یہ نکالا کہ اس سے پانی بدمزہ نہیں رہا، اس سے پانی کا ذائقہ بہتر ہو گیا۔دوسرے انہوں نے ظاہری حواس کے ذریعہ یہ بھی معلوم کیا کہ معدہ میں جو درد اور خراش محسوس ہوتی تھی اس کا احساس بھی ختم ہو گیا۔غرض انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ ایک بڑی اچھی اور مفید چیز ہے لیکن یہ تو ایک تھوڑ اسا علم تھا جو محدود شکل میں تجربہ حاصل ہوا تھا کیونکہ دس ہیں یا سو دو سو آدمیوں نے وہ پانی پیا ہو گا مگر جب ان کے سپہ سالار کو پتہ لگا ( اس زمانے میں بادشاہ خود فوج کی کمان کرتے تھے ) تو اس نے اطباء کے مشورے سے ساری فوج کو پانی ابال کر اور اس میں اس چائے کی ( جواب سبز چائے کہلاتی ہے ) پتی ڈال کر پینے کا حکم دیا اور اس طرح گویا عقل کے زور سے انہوں نے عملی تجربہ کیا اور پھر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ یہ بڑی اچھی چیز ہے اس لئے ساری فوج کو استعمال کرنی چاہیئے۔