مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 336
336 فرموده ۱۹۷۲ء توحید کا قیام د مشعل راه جلد دوم دد آنحضرت کی عظمت کے اظہار کا کام اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ سے لینا چاہتا ہے۔اب احمدیت کے ذریعہ یہ مقدر ہے کہ اسلام دنیا میں غالب ہو۔توحید حقیقی قائم ہو آ نحضرت ﷺ کا پیار بنی نوع انسان کے دلوں میں ظاہر ہو۔انسانی زندگی اسلام کے نور سے منور اور اسلام کے حیات بخش پانی سے سیراب ہو۔پس یہ ہیں ہمارے بنیادی عقائد۔اب عقائد کے ہوتے ہوئے اگر کوئی ہمارے خلاف فتوی دیتا ہے تو اس کا یہ فعل واقعات کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔تاہم جہاں تک ان عقائد کے مطابق اعمال کا تعلق ہے۔ہم نے ان کی جزا رب العلمین سے لینی ہے۔ہمارے دل میں ایک لحظہ کے لئے بھی یہ خیال پیدا نہیں ہونا چاہیئے کہ دنیا ہمیں کیا کہتی ہے۔ہم نہ دنیا کے بندے اور نہ دنیا کی تعریف و تحسین کے خواہش مند ہیں۔ساری دنیامل تر بھی اگر ایک کمزور سے کمزور احمدی کی تعریف میں لگ جائے تو اگر اس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہے تو وہ اس تعریف کو پائے حقارت سے ٹھکرا دے گا اور کہے گا میں تمہاری تعریفوں کو نہایت گندی اور کمتر چیز سمجھتا ہوں۔کیونکہ جس شخص نے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں خدا تعالیٰ کے پیار کو دیکھا ہے اس کے لئے دنیا کی ہر چیز ایک مردہ کیڑے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ہمارے بعض دوست کہتے ہیں کہ دنیا ہمیں یہ کہتی ہے اور دنیا ہمارے خلاف یہ سازشیں کرتی ہے۔میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ کیا تم دنیا کے بندے ہو؟ اگر تم دنیا کے بندے تھے تو پھر احمدیت کو تم نے کیوں قبول کیا ہے؟۔جب تم نے احمدیت کو قبول کر کے احمدیت کی روشنی کو حاصل کیا اور خدا کے پیار کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے وجود میں اس کا مشاہدہ کیا تو پھر دنیا اور اس کے مخالفانہ منصوبوں کی طرف کیوں دیکھتے ہو۔اپنے خدائے قادر و تو انا پر بھروسہ رکھو۔وہ تمہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔اب مثلاً میری خلافت پر چھ سال گزر چکے ہیں۔اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کو بہت زیادہ ترقی عطا فرمائی۔( میں یہ نہیں کہتا کہ پہلوں نے ترقی نہیں کی۔جب میں خلافت ثالثہ کی بات کرتا ہوں تو اس سے میری مراد یہ ہوتی ہے کہ آپ یہ مسئلہ آسانی سے سمجھ جائیں۔پہلی خلافتوں میں بھی اسی طرح ترقی ہوئی ہے ) ہم کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔مثلاً مالی قربانیوں کے لحاظ سے ہم کہتے ہیں کہ جماعت مالی قربانیوں میں آگے چلی گئی اس کا یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو مال کے لحاظ سے پہلے سے زیادہ مال عطا فرمایا۔پہلے سے زیادہ نعمتیں نازل ہوئیں۔تم پہلے سے زیادہ قربانی دینے کے قابل ہوئے۔تبھی تمہاری قربانیاں آگے نکلیں۔اگر قابل نہ ہوتے تو آگے کس طرح نکلتے۔غرض جماعت پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ایک طرف ایک نعمت عطا فرمائی اور دوسری طرف دوسری نعمت کے سامان پیدا کر دیئے۔ہم نے غیر ممالک میں مساجد تعمیر کیں۔اسی طرح مدر سے اور ہسپتال کھولے تا کہ بنی نوع انسان کی خدمت کر سکیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں اصل اسلام ہے۔چنانچہ ہم حقوق اللہ کی