مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 337 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 337

فرموده ۱۹۷۲ء 337 دو مشعل راه جلد دوم ادائیگی کے ساتھ ساتھ ساری دنیا میں حقوق العباد بھی ادا کر رہے ہیں۔مسجدیں بن رہی ہیں۔سکول کھل رہے ہیں۔ہسپتال بن رہے ہیں۔قرآن کریم پڑھایا جارہا ہے اسلام کی تعلیم دی جارہی ہے۔بنی نوع انسان کو حضرت مصطفی اللہ کے حسن و احسان کے جلووں کا گرویدہ بنایا جار ہے۔آسمان سے فرشتے نازل ہورہے ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے ہیں مگر لوگ ہماری طرف بڑی محبت اور پیار سے متوجہ ہوتے ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کے اس فضل پر جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔یہاں بظاہر درمیانہ درجہ کے بیا نو جوان شاہدین کو آپ دیکھتے ہیں اور آنکھیں نیچی کر کے ان کے پاس سے گذر جاتے ہیں۔مگر جب ہمارا وہی نو جوان مبلغ افریقہ میں یاکسی دوسرے ملک میں اعلائے کلمہ اسلام کے لئے جاتا ہے تو سر براہ مملکت کھڑے ہو کر اس سے ملاقات کرتا ہے۔اس کے دل میں مبلغ کی عزت ہوتی ہے تبھی وہ کھڑے ہو کر اس کا استقبال کرتا ہے۔اسی طرح نصرت جہاں سکیم کے ماتحت ڈاکٹر گئے تو انہوں نے مجھے خط لکھا کہ یہاں جماعت احمدیہ کی اتنی عزت ہے کہ ہم تو حیران ہیں۔کئی ایک نے تو یہ بھی لکھا کہ پاکستان میں رہنے والے اس عزت افزائی کو سمجھ ہی نہیں سکتے کہ کس طرح خدا کے فرشتے جماعت احمدیہ کا پیار دلوں میں پیدا کرنے کے لئے دنیا میں کام کر ہے ہیں۔اور جماعت احمدیہ کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا ہورہی ہے۔پس اگر آپ کوشش کریں تو آپ اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔اس کی بہتر صورت یہی ہے کہ آپ ان واقعات کو پڑھا کریں اور سوچا کریں۔دنیا کی مجموعی آبادی کے مقابلہ میں آپ کی حیثیت اور طاقت ہی کیا ہے۔آپ تعداد کے لحاظ سے مٹھی بھر ہیں۔پیسہ آپ کے پاس نہیں ہے۔آپ دنیا کے دھتکارے ہوئے لتاڑے ہوئے ہیں۔دنیا کی اکثریت ایسی ہے جس کی آنکھوں میں آپ کو نفرت و حقارت اور غیض و غضب نظر آتا ہے۔آخر وہ کیا چیز ہے جو آپ کا سہارا بن جاتی ہے۔وہ ہے اللہ تعالیٰ کی آنکھ میں آپ کا پیار۔جب اللہ تعالیٰ کی آنکھ میں آپ کے لئے پیار ہے تو کسی اور کے پیار کی آپ کو کیا پر واہ ہوسکتی ہے۔پس یہ ہیں ہمارے عقائد تو حید کے بارہ میں۔انبیاء کے بارہ میں۔آنحضرت مال اللہ کے بارہ میں۔قرآن کریم کے بارہ میں اور اخروی زندگی کے بارہ میں۔میں نے خاصی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ خدا نے کائنات کی ہر چیز انسان کے لئے مسخر کی ہے۔مگر اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تسخیر کائنات میں خدا تعالیٰ کی کیا مشیت کارفرما ہے۔اور انسان کو اس سے کس طرح فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ہمارے یہ عقائد ہیں۔ہم ان پر قائم ہیں اور خدائی راہ میں حقیر قربانیاں پیش کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو قبول فرمائے گا اور ان کی بہترین جزاء عطا فرمائے گا۔وہ اپنے فضل سے اس دنیا میں بھی جزا عطا فرماتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی آنکھ میں جو پیار نظر آرہا ہے۔وہ اسی حقیقت کا غماز ہے۔خدا کے اس پیار کے مقابلہ میں باقی سب چیزیں بیچ ہیں۔